Al-Risala · July 2007 · page 36

خدا کی حکومت

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۶

خدا کی حکومت

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا مشن یہ ہے کہ وہ دنیا میں خدا کی حکومت قائم کریں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا کی حکومت ہر وقت ہی کامل طور پر قائم ہے اور مومن وہ ہے جو خدا کی اس قائم شدہ حکومت کا اعتراف کر کے اس کے آگے آزادانہ طور پر سرنڈر کر دے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کی اس قائم شدہ حکومت کا متقیانہ شہری بنا لے۔ اسی اختیاری اطاعت کا دوسرا نام ایمان ہے۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: أفغير دين الله يبغون وله أسلم من في السموات والأرض طوعاً و كرها وإليه يرجعون (آل عمران: 83) یعنی کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنا دین ساری کائنات میں جبراً قائم کر رکھا ہے۔ انسان کو یہی دین اپنے ذاتی فیصلے کے تحت اختیار کرنا ہے۔ اس اختیار کا تعلق اصلا فرد سے ہے نہ کہ نظام سے۔ اگر بالفرض کسی انسانی نظام کے اوپر اللہ کا دین قاہرانہ طاقت کے ذریعہ نافذ کر دیا جائے تب بھی اللہ کا مطلوب پورا نہ ہوگا۔ کیوں کہ اللہ کے منصوبہ کے مطابق، جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ ہر فرد اپنے آزادانہ اختیار کے تحت اللہ کا مطیع بن جائے۔

قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ حق اور باطل کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ اب جو شخص چاہے اُس کا مومن بنے اور جو شخص چاہے اُس کا انکار کر دے (فمن شاء فليومن ومن شاء فليكفر، الكهف : 29) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا تخلیقی منصوبہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی منشا کا علم دے کر آزاد چھوڑ دے اور پھر دیکھے کہ کون شخص آزادانہ اطاعت کا ثبوت دے کر انعام کا مستحق بنتا ہے، اور کون شخص آزادانہ نافرمانی میں مبتلا ہو کر سزا کا مستحق قرار پا تا ہے۔

خدا کی اطاعت کا قاہرانہ نظام اس تخلیقی منصوبہ کی نفی ہے، اس لیے وہ خدا کا مطلوب دین نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس طرح قاہرانہ اطاعت کا نظام پوری انسانی تاریخ میں کبھی اس دنیا میں قائم نہیں ہوا، اور اُس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خدا کا مطلوب ہی نہ تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page