ہدیہ : صرف 20/- روپے
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۹
فرشتوں کے کردار اور ابلیس کے کردار میں اس فرق کا نفسیاتی سبب کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ جب اختلاف پیدا ہوا تو ابلیس نے معاملے کو اپنے اور آدم کے درمیان سمجھا۔ اس طرح اس کو نظر آیا کہ میں تو آدم سے بہتر ہوں۔ حالاں کہ صحیح یہ تھا کہ وہ معاملے کو اپنے اور خدا کے درمیان کا معاملہ بنائے ۔ اگر وہ ایسا کرتا تو اس کو معلوم ہوتا کہ مجھے اپنی غلطی ماننا چاہیے۔ کیوں کہ اگر میں اپنی غلطی نہ مانوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں اس کو خدا پر ڈال رہا ہوں اور خدا کی طرف وہ لوٹنے والی نہیں۔ اس کے برعکس ، فرشتوں نے معاملے کو اپنے اور خدا کے درمیان کا معاملہ قرار دیا۔ اس لیے انھیں اپنی غلطی کے اعتراف میں کوئی دیر نہیں لگی۔
یہی امتحان آج بھی ہر انسان کا ہر لمحہ ہورہا ہے۔ جب بھی دو آدمیوں یا دو گروہوں کے درمیان اختلافی معاملہ پیش آئے اس وقت اگر انسان معاملے کو اپنے اور دوسرے انسان کا معاملہ سمجھے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ابلیس والی نفسیات کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے برعکس ، اگر وہ معاملے کو اپنے اور خدا کے درمیان سمجھے تو وہ فوراً جھک کر اپنی غلطی کا اعتراف کرلے گا۔ اس دنیا میں ہر اکڑ خدا کے خلاف ہے نہ کہ کسی انسان کے خلاف۔
ہندی ترجمہ قرآن زیر نظر ترجمہ، ہندی زبان میں قرآن کا سلیس اور آسان ترجمہ ہے۔ عوام الناس کا خیال رکھتے ہوئے ہندی کے مشکل الفاظ سے اجتناب کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ عام فہم زبان میں ہونے کی بنا پر عوام اور خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔
ہدیہ : صرف 20/- روپے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues