Al-Risala · July 2007 · page 38

دو قسم کے ماڈل

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۸

دو قسم کے ماڈل

انسان دنیا میں کس طرح زندگی گزارے، اس کے لیے قرآن میں دو قسم کے ماڈل بتائے گیے ہیں۔ ایک جنتی ماڈل اور دوسرا جہنمی ماڈل۔ جنتی ماڈل ملکوتی کردار پر مبنی ہے اور جہنمی ماڈل وہ ہے جس کا نمونہ ابلیس کی مثال میں ملتا ہے۔ موجودہ دنیا میں جو لوگ ملکوتی کردار کو اپنائیں اگلی دنیا میں ان کے لیے ابدی راحت ہے اور اس کے برعکس، جو لوگ ابلیسی ماڈل کو اپنائیں اگلے دور حیات میں وہ ابدی عذاب میں ڈال دیے جائیں گے۔

فرشتوں کا نمونہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ انھوں نے تخلیق آدم کے وقت خدا کے سامنے اپنا شبہہ ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا— کیا تو ایسی مخلوق کو پیدا کر رہا ہے جو زمین میں فساد کرے اور وہاں خون بہائے۔ یہ ایک نہایت سنگین نوعیت کا سوال تھا۔ مگر جب خدا نے آدم کے ذریعہ اس کی وضاحت کی تو فوراً فرشتوں نے اپنا شبہہ واپس لیتے ہوئے کہا کہ لا علم لنا إلا ما علمتنا (البقرہ: 32) گویا انھوں نے یہ اعتراف کر لیا کہ ہمارے شبہہ کی بنیاد خود ہماری کم علمی تھی نہ کہ اصل منصوبہ کا کوئی نقص۔ موجودہ دنیا میں یہی انسان کا خاص امتحان ہے۔ یہاں بار بار ایک انسان کو دوسرے انسان کے بارے میں شبہات اور اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر ملکوتی کردار یہ ہے کہ جب معاملے کی وضاحت کی جائے تو فوراً آدمی اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔ وہ کھلے طور پر اعلان کرے کہ میں اپنی کم علمی کا شکار ہوا۔ دوسرے شخص پر میں نے جو اعتراض یا الزام عائد کیا وہ سراسر بے بنیاد تھا نہ کہ کوئی واقعی حقیقت۔

دوسرا ماڈل جو قرآن میں بتایا گیا ہے وہ ابلیس کا ماڈل ہے۔ ابلیس کو بھی خدائی تخلیق پر اعتراض ہوا۔ مگر معاملے کی وضاحت کے باوجود اس نے اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔ وہ یہ سوچ کر اپنی رائے پر اکڑ گیا کہ میں آدم سے بہتر ہوں (الاعراف: 12) ایسی حالت میں کیوں میں اعتراف کر کے آدم کے سامنے جھکوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page