اسلاف کا طریقہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۴۲
اسلاف کا طریقہ
روی عن خارجة بن زيد بن ثابت قال: "كان زيد إذا سئل عن شيء، قال:
هل وقع؟ فإن قالوا له: لم يقع، لم يخبرهم۔ وإن قالوا: قد وقع، أخبرهم" (ابن القيم، أعلام الموقعين، جلد اول، صفحہ 61)
زيد بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لڑکے خارجہ کہتے ہیں کہ جب زید سے کوئی بات پوچھی جاتی تو وہ دریافت کرتے: کیا ایسا ہو چکا ہے۔ اگر انھیں نفی میں جواب دیا جاتا تو وہ مسئلہ نہ بتاتے۔ اور اگر یہ کہا جاتا کہ ایسا واقعہ بالفعل ہو چکا ہے، تو وہ سائل کو مسئلہ بتا دیتے۔ و عن مسروق قال: "كنت أمشى مع أُبيّ بن كعب فقال له رجل يا عماه كذا و کذالک۔ فقال: يا ابن أخى أكان هذا؟ قال: لا، قال : فأعفنا حتى يكون" (حوالہ مذکورہ) مسروق (تابعی) سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا تو ایک آدمی نے آ کر پوچھا: اے چچا، اگر ایسا اور ایسا ہو تو (یعنی کوئی فرضی مسئلہ دریافت کیا)۔ ابی بن کعب نے کہا: اے میرے بھائی کے لڑکے، کیا ایسا واقعہ ہو چکا ہے۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ یہ سن کر انھوں نے جواب دیا: پھر ہمیں اس وقت تک معاف رکھیں جب تک ایسا عملاً واقع نہ ہو جائے۔ یہ دونوں واقعات بتاتے ہیں کہ سوال یا استفتا کے بارے میں علماء سلف کا طریقہ کیا تھا، وہ ایسا نہیں کرتے تھے کہ محض سوال یا استفتا پر شرعی مسئلہ بیان کرنے لگیں بلکہ وہ سائل یا مستفتی سے یہ پوچھتے تھے کہ جس معاملے کے بارے میں تم مسئلہ پوچھتے ہو وہ معاملہ بالفعل پیش آ چکا ہے۔ اگر وہ کہتا کہ ہاں تو شرعی مسئلہ بیان کرتے، بصورت دیگر وہ سائل سے کہتے کہ فرضی سوالات مت کرو۔ صرف انھیں امور میں شرعی مسئلہ دریافت کرو جو عملاً پیش آ چکے ہیں۔
یہ تھا علمائے سلف کا طریقہ اور بلاشبہ یہی صحیح اسلامی طریقہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues