Al-Risala · July 2007 · page 43

والدِ محترم کی وفات

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۴۳

والدِ محترم کی وفات

18 اپریل 2007 کو راقم الحروف (محمد ذکوان ندوی) کے والدِ عثمان صاحب کا لکھنؤ میں انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 65 سال تھی۔ 18 اپریل کو ظہر کی نماز کے بعد میں نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ اور اندر ا نگر ، لکھنؤ کے قبرستان اَمْرپالی میں ان کی تدفین ہوئی۔

ان کی صحت عموماً ٹھیک رہتی تھی۔ تاہم جنوری 2007 میں ان کو ٹھنڈک لگ گئی اور پھر وہ بڑھ کر خطرناک شکل اختیار کرگئی۔ کوئی علاج اس میں مفید ثابت نہ ہوسکا۔ تکلیف کی شدت کی وجہ سے وہ کئی ماہ سے بالکل لیٹ نہیں سکتے تھے۔ ان کی ساری رات دعا اور مناجات میں بیٹھ کر گزر جاتی تھی۔ آخری دونوں میں ان کی صحت بہتر ہوگئی تھی۔ 3 اپریل کو برادرِ محترم مولانا امان اللہ قاسمی کے پاس وہ جے پور گئے ہوئے تھے۔ وہاں پہنچ کر ان کے ساتھ ایک حادثہ پیش آگیا۔ اس کی وجہ سے ان کی تکلیف مزید شدت اختیار کرگئی۔ 13 اپریل کو دہلی سے روانہ ہو کر رات کو میں جے پور پہنچا۔ کافی دیر تک اُن سے دینی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں ۔ دینی موضوعات پر تبادلۂ خیال کرنا ان کو بہت محبوب تھا۔ صبح کو اچانک ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ میں ان کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ ڈاکٹر نے انھیں دوبارہ دکھانے کے لیے کہا۔ میں نے اگلے دن ڈاکٹر کے پاس چلنے کے لیے کہا تو انھوں نے منع کردیا۔ میں نے بہت اصرار کیا تو انھوں نے کہا نہیں، میں اب کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جاؤں گا، اب میں صرف اللہ کے پاس جاؤں گا۔ میں نے دوبارہ اصرار کیا تو انھوں نے سختی سے منع کرتے ہوئے کہا کہ بس اب مجھ کو کسی طرح لکھنؤ پہنچادو۔ میں نے برادرم مولا نا محمد حسان ندوی کو لکھنؤ سے جے پور بلایا۔ اور 16 اپریل کی شام کو ہم انھیں لے کر لکھنؤ کے لیے روانہ ہوئے اور بارہ گھنٹے کا طویل سفر طے کر کے اگلے دن صبح کو لکھنؤ پہنچ گئے۔ لکھنؤ پہنچ کر ان کی طبیعت میں ایک عجیب اطمینان پیدا ہوگیا تھا۔ اس کے آثار ان کے چہرے پر نمایاں تھے۔ البتہ کمزوری اب بہت بڑھ گئی تھی۔ اور ان پر ایک طرح کی یکسوئی کی کیفیت طاری تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اب ان کو دنیا کی کسی چیز سے کوئی دل چسپی باقی نہیں رہ گئی ہے۔ سخت بے چینی کے عالم میں انھوں نے مجھ سے کہا کہ اب مجھے کسی اور چیز کی فکر نہیں ہے۔ بس دعا کرو کہ ایمان پر خاتمہ ہو جائے۔ میں نے اطمینان دلانا چاہا تو کہنے لگے کہ کیا خبر خدا کے یہاں کیا معاملہ ہو، خدا بہت بے نیاز ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page