دجّالِ اکبر کا فتنہ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۵۱
دجّالِ اکبر کا فتنہ
حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں مستقبل کے بارے میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آخری زمانے میں ایک دجّال پیدا ہوگا ۔ اُس وقت اُمتِ مسلمہ میں سے ایک شخص اٹھے گا ، جو دجّال کا حجیج بنے گا اور اُس کا خاتمہ کرے گا (إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم، وإن يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه، صحیح مسلم، کتاب الفتن) یہ واقعہ تاریخ کا عظیم ترین واقعہ ہوگا۔ چناں چہ صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : هذا أعظم الناس شهادةً عند ربّ العالمين (کتاب الفتن) یعنی یہ خدا کے نزدیک سب سے بڑی گواہی ہوگی۔
دجّال کے لفظی معنیٰ بہت دھوکا دینے والا (great deceiver) ہے۔ دجّال اپنا یہ کام تلوار کے ذریعے نہیں کرے گا۔ دھوکا دینا ، دلیل کے ذریعے ہوتا ہے ، نہ کہ تلوار کے ذریعے ۔ چناں چہ دجّال علم اور دلائل کے زور پر لوگوں کو بہکائے گا۔ وہ لوگوں کو ذہنی گم راہی میں مبتلا کرے گا۔ دجّال کے مقابلے میں جو شخص اُس کی کاٹ کے لیے اٹھے گا ، اُس کے لیے صحیح مسلم میں حجیج‘ کا لفظ آیا ہے۔ لسان العرب میں حجیج‘ کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: مُحاجّه ومغالبه بإظهار الحجة عليه (2/228) یعنی دلائل کے ذریعے غالب آنے والا :
One who can overcome in the argument.
حدیث میں آتا ہے کہ دجّال کی پیشانی پر ک، ف، ر (کفر) لکھا ہوا ہوگا (صحیح مسلم، کتاب الفتن) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دجّال جس دور میں پیدا ہوگا ، وہ خدا سے کفر کا دور ہوگا ، یعنی الحاد کا دور۔ پچھلی تاریخ کا فتنہ خدا کا انکار نہیں تھا ، بلکہ خدا کو مان کر اُس کا شریک بنانا تھا۔ اُس زمانے میں خدا کا وجود ایک اصول موضوعہ (axiom) کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں یہ مسلّمہ ٹوٹ گیا۔ آج الحاد کا زمانہ ہے ، یعنی انکار خدا کا زمانہ۔
قدیم زمانے میں داعی کو یہ ثابت کرنا پڑتا تھا کہ خدا کا کوئی شریک نہیں۔ موجودہ زمانے میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues