Al-Risala · August 2007 · page 3

One who can overcome in the argument.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۳

داعی کو خدا کے وجود کو ثابت کرنا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو دجّال کے فتنے سے لڑنا کہا گیا ہے۔ خدا کے وجود کو علمی طور پر ثابت کرنا ، یہی دجّال کو قتل کرنا ہے۔ حدیث میں جس چیز کو ”عظیم ترین شہادت“ کہا گیا ہے ، اُس سے مراد غالباً یہی ہے۔

حدیثوں کے مطالعے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دجّال یا دجّالیت دراصل سائنسی دور کا فتنہ ہے۔ سائنسی دور میں پہلی بار یہ ہوگا کہ کچھ لوگ دلائل کے نام پر حق کا ابطال کریں گے۔ وہ یہ تاثر دیں گے کہ حق ، علمی ترقی کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا۔ پھر خدا کی توفیق سے ایک شخص اٹھے گا جو خود سائنسی دلائل کے ذریعے اس دجّالی فتنے کا خاتمہ کر دے گا۔ وہ دجّالی دلائل کو زیادہ برتر دلائل کے ساتھ بے بنیاد ثابت کر دے گا۔ یہ واقعہ، اپنی نوعیت کے اعتبار سے ، تاریخ بشری کا پہلا واقعہ ہوگا۔ وہ دعوتِ حق کی عظیم ترین مثال کے ہم معنی ہوگا۔ اِسی لیے اُس کی بابت صحیح مسلم میں یہ الفاظ آئے ہیں: ہذا أعظم الناس شهادةً عند ربّ العالمين۔ یہ عظیم دعوتی واقعہ قیامت سے پہلے پیش آئے گا۔ دجّالی فتنہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی نیا فتنہ نہیں، وہ شیطانی فتنے ہی کا نقطۂ انتہا (culmination) ہے۔ شیطان ہمیشہ سے یہ کرتا رہا ہے کہ وہ ’تزئین‘ کے ذریعے لوگوں کو سچائی کے راستے سے ہٹاتا ہے۔ شیطان کا یہ کام ہمیشہ سے جاری ہے۔ اِسی شیطانی فتنے کے خلاف ذہن کو بیدار رکھنے کے لیے حج کے موقع پر رمی کی جاتی ہے۔ رمی دراصل شیطان کے خلاف علامتی سنگ باری (symbolic stoning) ہے۔ سائنسی دور میں یہ شیطانی تزئین ، علمی تزئین کے روپ میں ظاہر ہوگی۔ اِسی لیے اس کو دجّالیت کہا گیا ہے۔

قرآن کے مطابق ، شیطان کا کام تزئین (الحجر: 39) کرنا ہے۔ تزئین کے لیے ہمیشہ اُس کے موافق سامان درکار ہوتا ہے۔ پچھلے زمانوں میں یہ موافق سامان زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں یہ موافق سامان بہت بڑھ گیا ہے ، علمی اعتبار سے بھی اور عملی اعتبار سے بھی۔ دجّال دراصل وہ شیطانِ اکبر ہے جو جدید ذرائع سے ، زیادہ پرزور انداز میں باطل کی تزئین کرے گا۔ پھر امتِ محمدی کا ایک شخص اٹھے گا جو خدا کی خصوصی مدد سے اس کی دجّالیت کا خاتمہ کر دے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page