ہدیہ: صرف -/20 روپے
الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۴
دجالیت دراصل علمی سطح پر تزئین اکبر کا فتنہ ہے۔ حدیث کے مطابق ، اُس زمانے میں ایک "رجل مومن " اُٹھے گا جو دجال کو قتل کرے گا، مگر یہ قتل جسمانی معنوں میں نہ ہوگا بلکہ فکری معنوں میں ہوگا، یعنی دجالی فتنے کو ایکسپوز (expose) کرنا۔
دجالیت ایک علمی فتنہ ہوگا اور رجل مومن بھی اس کا خاتمہ علمی دلائل کے زور پر کرے گا۔ حدیث میں "عظیم شہادت" کا لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔ اس میں "شہادت" سے مراد گواہی ہے نہ کہ جان کی قربانی۔ دین حق کی یہی وہ عظیم ترین گواہی ہے جس کو حدیث میں "قتل دجال" کہا گیا ہے۔ دجال اکبر کا مقابلہ کرنے والے اسی رجل مومن کو حدیث میں مہدی کہا گیا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ایک حدیث میں مہدی اور مسیح دونوں کو ایک شخصیت بتایا گیا ہے (ولا المهديُّ إلَّا عيسى بنُ مريم، ابن ماجہ، کتاب الفتن) اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دجال، شیطانی کلچر کا نقطۂ انتہا ہے اور مہدی، ربانی کلچر کا نقطۂ انتہا۔ دجال، مٹیریل آئیڈیالوجی کا نمائندہ ہے اور مہدی، اسپرچول آئیڈیالوجی کا نمائندہ۔ مٹیریل آئیڈیالوجی کا نشانہ دنیا میں جنت کی تعمیر ہے، اور اسپرچول آئیڈیالوجی کا نشانہ آخرت میں جنت کی تعمیر۔
ہندی ترجمۂ قرآن زیر نظر ترجمہ، ہندی زبان میں قرآن کا سلّیس اور آسان ترجمہ ہے۔ عوام الناس کا خیال رکھتے ہوئے ہندی کے مشکل الفاظ سے اجتناب کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ عام فہم زبان میں ہونے کی بنا پر عوام اور خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔
ہدیہ: صرف -/20 روپے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues