تفسیر قرآن
الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۶
میں ایسا کیا گیا۔ اس قسم کی آیتوں کے بارے میں خوض اور تعمق درست نہیں۔ ایک عالم نے بجاطور پر کہا ہے کہ: أبهموا ما أبهمه الله (تم اُس چیز کو مبہم رکھو جس کو اللہ نے مبہم رکھا ہے)۔ جہاں تک محکم آیتوں کا تعلق ہے، اُن میں ہم یہ کر سکتے ہیں کہ اُن کی تفصیلات جاننے کے لیے مکمل تحقیق اور غور و فکر کریں کیوں کہ ایسی آیتیں انسان کے دائرۂ علم سے تعلق رکھتی ہیں۔ مگر جہاں تک متشابہات کا تعلق ہے، اُن کے بارے میں طالبِ قرآن کو اجمالی مفہوم پر اکتفا کرنا چاہیے۔ 2- اسی طرح قرآن میں ’أولوا الألباب‘ کا لفظ کئی مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً فرمایا: إنما يتذكر أولواالألباب(الرعد: (الرعد: 19)۔ ان آیتوں کے بارے میں اگر کوئی شخص کہے کہ ’أولواالألباب‘ کا مطلب ہے اوپن مائنڈ (open mind) تو یہ درست نہ ہوگا۔ قرآن کی تفسیر کے بارے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے زبان کے اعتبار سے آیت کا لفظی مفہوم بتایا جائے۔ اُس کے بعد ضروری تشریح اور تجزیہ کر کے بیان کیا جائے کہ اُس کے نزدیک آیت کا مفہوم کیا ہے۔ مثلاً ’أولواالألباب‘ کی آیت میں پہلے اُس کا صحیح ترجمہ بتانا ہوگا۔ اُس کے بعد اُس کے بارے میں اپنی تشریح دلائل کے ذریعہ بتائی جا سکتی ہے۔
عربی زبان میں ’لُب‘ کے معنی عقل (intellect) کے ہیں۔ تاہم لُب میں لغوی طور پر مزید وسعت ہے۔ لُب اصل میں ہر چیز کے خالص کو کہتے ہیں۔ عقل کے لیے جب یہ لفظ استعمال کیا جائے تو اُس سے مراد خالص عقل ہوگی، وہ عقل جو وہم اور تعصب کی آمیزش سے پاک ہو۔ اس لیے لُب پر عقل کا اطلاق ہوگا مگر عقل پر لُب کا اطلاق ضروری نہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی بے آمیز عقل کے ساتھ سوچے تو وہ قرآن کے بیان کی تصدیق پر مجبور ہوگا۔
’أولوا الألباب‘ کی تشریح کرتے ہوئے مفسر ابن کثیر نے لکھا ہے کہ: العقول التامة الزكية التي تدرك الأشياء بحقائقها (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 438) یعنی کامل اور پاکیزہ عقل جو چیزوں کا اُن کی حقیقت کے لحاظ سے ادراک کر لے۔
عقل ہر انسان کو ملتی ہے، لیکن لوگ اپنی عقل پر طرح طرح کے پردے ڈال لیتے ہیں۔ اس لیے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues