الرسالہ آن لائن
الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۷
وہ چیزوں کو ویسا نہیں دیکھ پاتے جیسی کہ وہ ہیں۔ جو آدمی اپنی عقل کو اس کمزوری سے بچائے اُس کے لیے حق کو پہچاننا کچھ بھی مشکل نہیں۔
یہاں میں ایک اور بات کا اضافہ کروں گا۔ وہ یہ کہ علم کے حصول کے لیے تواضع (modesty) لازمی طور پر ضروری ہے۔ جس آدمی کے اندر تواضع کی صفت نہ ہو وہ کبھی علم اور معرفت کا تجربہ نہیں کر سکتا۔
ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر انانیت اور کبر کا مادہ ہے، کوئی بھی آدمی اس سے خالی نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی آدمی کا كبر اُس کے لہجے اور انداز میں کھلے طور پر نمایاں ہو جاتا ہے اور کوئی شخص اپنے کبر کو اس طرح چھپائے رہتا ہے کہ عام حالات میں کوئی آدمی اُس کو پکڑ نہیں سکتا۔ کبر حصول علم میں کیوں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے آپ بہت کم باتوں کو جان سکتا ہے۔ زیادہ باتیں اُس کو دوسروں سے سیکھنی پڑتی ہیں۔ اب ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی آدمی کے سامنے دوسرے کی طرف سے کوئی علم کی بات آتی ہے تو وہ أخذته العزة بالإثم (البقره: 206) کا مصداق بن جاتا ہے۔ یعنی وہ اُس کو سا کھ (prestige) کا سوال بنا لیتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے دوسرے کی بات مان لی تو میں اُس کے مقابلے میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔ اس نفسیات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اُس کے سامنے علم آتا ہے مگر وہ اُس کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔
الرسالہ آن لائن
اب آپ ماہ نامہ الرسالہ (اُردو) کے نئے اور پرانے شمارے اور مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابیں آن لائن بھی پڑھ سکتے ہیں اور اُس کو فری ڈاون لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس website کا پتہ یہ ہے:
www.alrisala.org
‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues