Al-Risala · January 2007 · page 34

نئی دہلی، ۱۵ جون ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۳۴

اس ضمن میں ایک خاص نکتہ میری نگاہ میں نبی اکرم ﷺ کی مکی زندگی کا ہے جہاں میری سمجھ کے مطابق نہ تو ”دارالحرب‘‘ کی اصطلاح فٹ ہو سکتی ہے نہ ہی ”دارالاسلام‘‘ اور ”دارالعہد‘‘ کی کیوں کہ یہ زمانہ آپ کی دعوت رسانی کا ہے، اس کے ساتھ ساتھ زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں فقہاء کی مشہور اصطلاح ”عرف‘‘ کا بھی سہارا لیا ہے۔ انھیں دو چیزوں کو اپنی فکر کی بنیاد بنا کر میں نے مقالہ تحریر کیا، اس کے علاوہ اور کوئی ماخذ میری نگاہ میں نہیں۔

والسلام ۲۶ جولائی ۲۰۰۶ء منظر الاسلام، نارتھ کیرولینا، امریکا مضمون نگار کا یہ خط میرے سوال کا واضح جواب نہیں تھا، اس لیے میں نے دوبارہ انھیں درج ذیل خط لکھا: برادر محترم مولانا منظر الاسلام ازہری!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا خط مورخہ ۲۶ جولائی ۲۰۰۶ء ملا۔ مگر آپ نے اپنے خط میں میری اصل بات کا جواب نہیں دیا۔ یہ بات میں خود اپنے مطالعے کے تحت، پہلے سے جانتا ہوں کہ عباسی دور سے لے کر اب تک کے پورے مسلم لٹریچر میں دارالدعوۃ کی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی ہے۔ میرا اصل سوال یہ تھا کہ آپ پر استثنائی طور پر دارالدعوۃ کی اصطلاح کیسے منکشف ہو گئی۔ اگر یہ آپ کی اپنی دریافت ہے تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کو یہ ذاتی دریافت کیسے ہوگئی۔ جو چیز ہزار سال تک کسی عالم نے نہیں جانا تھا، اس کو آپ نے استثنائی طور پر کیسے جان لیا۔ اگر یہ آپ کی اپنی ذاتی دریافت ہے تو آپ سے میں نے یہ معلوم کرنا چاہا تھا کہ یہ ذاتی دریافت آپ کو استثنائی طور پر کیسے ہوگئی۔ میں اسی خاص نکتے کی بابت آپ کا جواب معلوم کرنا چاہتا تھا۔

اس معاملے میں میرے اشکال کی بنیاد یہ ہے کہ میں اس کو اجتہاد مطلق کی نوعیت کا ایک واقعہ سمجھتا ہوں۔ جیسا کہ معلوم ہے، اب تک کی پوری مسلم تاریخ میں کسی نے دارالدعوۃ کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ پچھلے ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں مسلم کمیونٹی تقلید کے اصول پر قائم ہو گئی ہے۔ متفقہ طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ ایسی حالت میں کسی کا دارالدعوۃ کی اصطلاح استعمال کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اجتہادِ مطلق کا یہ واقعہ اُسی استثنائی شخص کی زندگی میں پیش آسکتا ہے جو لمبی مدت تک اُس علمی اور فکری پراسس سے گذرا ہو جو کسی کو اجتہادِ مطلق کے مقام پر پہنچاتا ہے۔ دارالدعوۃ جیسا مجتہدانہ قول اتفاقاً کسی کی زبان پر جاری نہیں ہوسکتا۔ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page