نئی دہلی، ۱۵ جون ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۳۳
ہے اور لکھا ہے کہ”امریکا اور یورپ کے ممالک کو دار الدعوہ کہا جائے تو بہتر ہوگا۔ “(صفحہ ۱۳) دریافت طلب امر یہ ہے کہ دوسری فقہی اصطلاحوں کے ضمن میں تو آپ نے متعلقہ فقہی کتابوں اور علماء کے حوالے دیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ دوسری اصطلاحیں کہاں سے نقل کی ہیں، لیکن دار الدعوہ کی اصطلاح کے بارے میں آپ نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ براہ کرم مطلع فرمائیں کہ آپ نے دار الدعوہ کی اصطلاح کہاں سے اخذ کی ہے۔ صفحہ نمبر کی تعیین کے ساتھ کتاب کے مکمل حوالے سے آگاہ فرمائیں۔ نئی دہلی، ۱۱۷ جون ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین کافی انتظار کے بعد جب مضمون نگار کا کوئی جواب مجھے نہیں ملا تو میں نے دوبارہ انھیں یاد دہانی کا ایک خط لکھا۔ وہ خط یہاں نقل کیا جاتا ہے:
برادر محترم مولانا منظر الاسلام ازہری! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ میں نے اپنے خط مورخہ ۷ جون ۲۰۰۶ء میں، آپ کے مضمون میں مذکور اصطلاح ”دار الدعوہ“ کے متعلق، آپ سے دریافت کیا تھا کہ اس اصطلاح کا ماخذ کیا ہے، مگر ابھی تک آپ نے اس کا کوئی حوالہ مجھے ارسال نہیں فرمایا۔ براہ کرم مذکورہ اصطلاح کے اصل ماخذ کا متعین حوالہ روانہ فرما کر شکریے کا موقع دیں۔ نئی دہلی، ۱۷ جولائی ۲۰۰۶ جواب کا منتظر وحید الدین میرے ان دو خطوں کے بعد صاحبِ مضمون کا درج ذیل ایک خط مجھے بذریعہ ای میل موصول ہوا: مکرمی مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اٹھارہ جولائی اور پھر چودہ کا بھیجا ہوا آپ کا مراسلہ ملا، مصروفیت کے سبب میں فی الفور جواب نہیں لکھ سکا۔ آپ نے ”دار الدعوۃ“ سے متعلق ماخذ کے بارے میں لکھا ہے، اس سلسلہ میں آپ سے یہ کہنا ہے کہ بشمول مذاہب اربعہ کسی قدیم فقہی کتاب میں میری نگاہ سے یہ اصطلاح نہیں گزری، میں اس موضوع پر بار بار سوچا کرتا تھا، یہاں امریکا پہنچنے کے بعد کئی دانشوروں کے ساتھ علمی نشست ہوئی جہاں یہ مسئلہ بھی زیر بحث رہا، میں نے ان کے سامنے اپنی رائے پیش کی تو انھوں نے اس سے اتفاق کیا، اسی دوران مجھے ہندوستان کے ایک ادارہ کی جانب سے منعقد سیمینار میں اس موضوع پر لکھنے کے لیے کہا گیا، میں نے اپنی فکر کو عملی شکل دے کر یہ مقالہ ترتیب دے دیا، جو بعد میں ”جامِ نور“ میں بھی شائع ہوا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues