تطفیف پروفیل
الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۱۰
تطفیف پروفیل
تجارت کو منصفانہ بنیاد پر قائم کرنا ، شریعتِ الہیٰ کا ایک اہم اصول ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں ایک بنیادی حکم یہ دیا گیا ہے کہ تجارتی سودے میں کوئی تاجر نہ کم تولے اور نہ کم ناپے بلکہ ناپ اور تول میں پوری طرح عدل سے کام لے۔ اس سلسلے میں قرآن کے چند حوالے یہ ہیں: 1- لا تنقصوا المكيال والميزان (ھود: 84)
2- ولا تبخسوا الناس أشياء هم (الشعراء: 183)
3- ولا تخسروا الميزان (الرحمن: 9)
اس کے علاوہ قرآن کی سورہ نمبر 83 میں ایک اور حکم آیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: "خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں۔ اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں۔ کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ اُٹھائے جانے والے ہیں ، ایک بڑے دن کے لیے، جس دن تمام لوگ خداوند عالم کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ " (التطفیف: 6-1)
سورہ التطفیف کے حکم اور دوسری سورتوں کے حکم میں بظاہر لفظی مشابہت ہے۔ یعنی دونوں میں ناپ اور تول کی زبان استعمال کی گئی ہے۔ مگر دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ دوسری سورتوں میں دینے کے وقت یک طرفہ طور پر کم تولنے یا کم ناپنے کا ذکر ہے۔ مگر سورہ التطفیف میں اس کے برعکس یہ کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جو دوسروں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں۔ اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں۔
اس فرق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری سورتوں میں تاجرانہ بد معاملگی سے منع کیا گیا ہے۔ مگر سورہ التطفیف میں جو بات ہے اُس کا تعلق تجارتی معاملے سے نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک انسانی کردار ہے جس کو ناپ اور تول کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا مزاج یہ ہو کہ اپنے معاملے میں اُن کا معیار کچھ ہو اور دوسروں کے معاملے میں اُن کا معیار کچھ اور۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues