Al-Risala · August 2007 · page 9

By 2050, Earth will be arid and empty.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۹

سائنسی معلومات کی روشنی میں کہا ہے کہ 2050 تک سطحِ ارض کا بڑا حصہ خشک ہو چکا ہوگا۔ بیش تر زندگیاں ختم ہو جائیں گی۔ ہم ایک ایسے انجام کے کنارے پہنچ چکے ہیں جب کہ ایک ایک کر کے لوگ مرنے لگیں گے، یہاں تک کہ سارے لوگ ختم ہو جائیں گے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہوگا جس کو اس سے پہلے انسان نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ جو کچھ ہونے والا ہے، اُس میں اگر بیس آدمی بھی زندہ بچ جائیں تو وہ بہت خوش قسمت انسان ہوں گے :

We are on the edge of the greatest die-off humanity has ever seen. We will be lucky if 20 of us survive what is coming. (p. 22)

یہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سادہ طور پر ماحولیاتی تبدیلی (climate change) کی بات نہیں ہے۔ وہ خالق کی طرف سے ایک وارننگ ہے۔ وہ ایک ہونے والے واقعہ کی پیشگی اطلاع ہے۔ وہ اس لیے ہے تاکہ آدمی ہوش میں آ جائے۔ وہ اپنی اصلاح کر کے اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے بچانے کی کوشش کرے۔

اصل یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو ایک مقامِ تیاری (preparatory ground) کے طور پر بنایا۔ اُس نے اس زمین پر ہر قسم کی ضروری چیزیں مہیا کر دیں۔ یہ چیزیں سامانِ عیش کے طور پر نہ تھیں، بلکہ وہ صرف سہولیات (facilities) کے طور پر تھیں ۔ انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنے اندر جنّتی شخصیت کی تعمیر کرے، تاکہ اُس کو جنّت کی ابدی دنیا میں بسایا جا سکے ۔ مگر انسان نے یہ کیا کہ اُس نے سامانِ تیاری کو سامانِ عیش سمجھ لیا۔ اپنے آپ کو جنت کے لیے تیار کرنے کے بجائے، وہ اسی دنیا میں اپنی جنّت بنانے لگا۔

خدا مختلف قسم کی تنبیہات (warnings) بھیجتا رہا، لیکن انسان ہوش میں نہ آیا۔ اس طرح اُس نے خدا کی نظر میں یہ جواز کھودیا کہ وہ مزید مدت تک اس دنیا میں قیام کرے۔ بظاہر اب وہ وقت آگیا ہے کہ یہ دنیا ختم کردی جائے اور انسان کو اپنے عمل کا حساب دینے کے لیے میدانِ حشر میں کھڑا کر دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page