Al-Risala · August 2007 · page 12

خلافتِ ارضی

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۱۲

خلافتِ ارضی

خلافتِ ارضی سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دوسری جگہ تمکین فی الارض‘ (الكهف: 84) کہا گیا ہے۔ یعنی زمین میں اقتدار دینا۔ یہ اقتدار ایک آزمائشی پرچہ ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح مال ایک آزمائشی پرچہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلافتِ ارضی حکمتِ الہی کے تحت ہر قوم کو دی جاتی ہے۔ اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ یہ دیکھے کہ اقتدار پانے والی قوم اقتدار پانے کے بعد کیسا عمل کرتی ہے (یونس: 14)

یہ خلافتِ ارضی یا اقتدارِ قرآن کے مطابق مکمل طور پر خدا کا عطیہ ہے۔ وہی اپنی مصلحت کے تحت یہ عطیہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور جس کو نہیں چاہتا اس کو نہیں دیتا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ۔ تم کہو، اے اللہ، سلطنت کے مالک تو جس کو چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے۔ اور تو جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کرے۔ تیرے ہاتھ میں ہے سب خیر۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے (آل عمران: 26)

جس طرح مال مقصود حیات نہیں ہے اسی طرح خلافتِ ارضی بھی مقصود دعوت نہیں ہے۔ یہ منصوبہ الہی کے خلاف ہے کہ کوئی گروہ خلافت کو اپنی تحریک کا نشانہ بنائے، خلافت کسی گروہ کو اس طرح نہیں ملتی کہ وہ اس کو اپنا نصب العین قرار دے کر اس کے لیے براہ راست جدوجہد کرے۔ اس سیاسی عطیہ کا تعلق استحقاق سے ہے۔ اگر کسی گروہ کے اندر یہ شرط پائی جائے تو خود اللہ کی طرف سے ایسے حالات پیدا کیے جائیں گے جو اس کو منصبِ خلافت تک پہنچا دیں۔ استحقاق کے بغیر محض مطالبا تی مہم یا سیاسی جدوجہد کے ذریعہ کسی کو خلافت کا منصب نہیں مل سکتا۔

جہاں تک اہل ایمان کا تعلق ہے خلافتِ ارضی کا معاملہ ان کے لیے ایک امر موعود ہے، وہ ان کے لیے امر مقصود نہیں۔ یعنی اہل ایمان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ خلافت کو اپنا نشانہ بنا کر اس کے حصول کے لیے براہِ راست تحریک چلائیں۔ ان کو اپنے اندر ایمانی شعور کو زندہ کرنا ہے اور اپنی ذات

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page