خلافتِ ارضی
الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۱۳
سے متعلق ضروری عملی تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کیے بعد وہ ان کے لیے خلافت ارضی کا فیصلہ فرمائے گا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:
”اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں خلافت (اقتدار) دے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلافت (اقتدار) دیا تھا۔ اور ان کے لیے ان کے دین کو جما دے گا جس کو ان کے لیے پسند کیا ہے۔ اور ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔ “ (النور: 55)
خلافت یا نظامِ صالح کوئی ایسی چیز نہیں جو کاغذ سے نکل کر زمین پر قائم ہو جائے۔ اس دنیا میں صالح نظام کو قائم کرنے کے لیے ہمیشہ صالح افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر صالح افراد موجود نہ ہوں تو خلافت یا نظامِ صالح کا نام لینے سے کوئی صالح نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ یہ عمل اور نتیجے کے درمیان فرق کا معاملہ ہے۔ اگر آپ پھل چاہتے ہوں تو پہلے آپ کو شجرکاری پر عمل کرنا ہوگا۔ شجر کاری کے میدان میں ضروری عمل کے بغیر کبھی کوئی شخص پھل کا مالک نہیں بن سکتا۔
یہی معاملہ خلافت یا نظامِ صالح کے قیام کا بھی ہے۔ کرنے والوں کو سب سے پہلے یہ کرنا ہے کہ وہ افراد کے اندر اعلیٰ ایمانی شعور جگائیں۔ وہ لوگوں کے اندر بلند کرداری پیدا کریں۔ وہ ایسے افراد تیار کریں جو ہر قسم کے نفسانی محرکات سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرنے والے ہوں۔ جن کے اندر یہ استعداد پیدا ہو چکی ہو کہ وہ اقتدار پا کر بھی متواضع بنے رہیں۔ زمین کے خزانے ان کے ہاتھوں میں آئیں مگر وہ حب مال میں مبتلا نہ ہوں۔ لوگوں کی طرف سے ان کی انا کو چوٹ لگے اس کے باوجود وہ انصاف کے اصول پر قائم رہیں۔ ایسے افراد ہی کوئی صالح نظام قائم کرتے ہیں۔ ایسے افراد کے بغیر خلافت یا صالح نظام کا نعرہ لگانا صرف فساد فی الارض ہے، نہ کہ حقیقی معنی میں کوئی نتیجہ خیز عمل۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues