Al-Risala · August 2007 · page 17

Relevance of Sufism in the post 9/11 world.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۱۷

اپنے رب سے سرگوشی کرے۔ (2) وہ گھڑی جب کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔ (3) وہ گھڑی جب کہ وہ خدا کی کاری گری میں غور کرے۔ (4) اور وہ گھڑی جب کہ وہ اپنے کھانے پینے کی ضرورتوں میں مشغول ہو۔

اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اپنے چوبیس گھنٹے کے وقت کو چھ چھ گھنٹے کے حساب سے چار حصوں میں تقسیم کرے اور ہر حصے کو مذکورہ چار کاموں میں سے ایک کام کے لیے وقف کردے۔ اس قسم کی ساعاتی تقسیم نہ فطری طور پر ممکن ہے اور نہ مذکورہ حدیث کا یہ منشا ہے۔ حدیث کا مدعا یہ ہے کہ آدمی کو اپنے رات اور دن کے اوقات اس طرح گزارنا چاہئیں کہ اُس پر مذکورہ قسم کے لمحات برابر آتے رہیں۔ وہ بار بار اس قسم کے تجربات سے گذرتا رہے۔ یہ حدیث تجربات کے تنوع کو بتانے کے لیے ہے، نہ کہ اوقات کی حسابی تقسیم کو بتانے کے لیے۔ ایک انسان کو جب حقیقتِ اعلیٰ (خدا) کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اُس کے اندر ایک نفسیاتی انقلاب آجاتا ہے۔ اس نفسیاتی انقلاب کے تحت اُس کی روز و شب کی زندگی اُنھیں تجربات ربانی کے درمیان گزرنے لگتی ہے جن کا ذکر مذکورہ حدیث میں ملتا ہے۔ یہ حدیث دراصل اُس ربانی انسان کی زندگی کی تصویر ہے جس کو خدا کی دریافت ہو گئی ہو اور اس دریافت کے نتیجے میں اُس کی زندگی کا نقشہ بالکل بدل گیا ہو۔

ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی خدا کی یاد میں اس طرح ڈوب جاتا ہے کہ اُس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خدا سے باتیں کر رہا ہے۔ اسی طرح یہ دریافت اُس کے اندر احتسابِ خویش کا جذبہ جگادیتی ہے اور وہ اپنا بے لاگ جائزہ لینے لگتا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنا تزکیہ کر سکے۔ اسی طرح خالق کی دریافت اُس کے اندر خالق کی تخلیقات میں غور وفکر کا مزاج پیدا کر دیتی ہے۔ وہ تخلیقات میں خالق کا جلوہ دیکھنے لگتا ہے۔ یہ اُس کی روحانی یا ربانی مصروفیات ہیں۔ اسی کے ساتھ اُس کی ایک ضرورت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ایک جزئی حصّے میں اپنی معاشی حاجتوں کے لیے کچھ وقت نکالے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page