Relevance of Sufism in the post 9/11 world.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۱۶
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ابتدا میں جو آیتیں اتریں ان میں آپ کو مدثر اور مزمل کے لفظ سے خطاب کیا گیا ، یعنی اے چادر اوڑھنے والے۔ چادر اوڑھنا در اصل اس بات کی علامت ہے کہ آدمی خارجی دنیا سے قطع تعلق کر کے داخلی دنیا کی طرف متوجہ ہو گیا۔ وہ مادی دنیا سے کٹ کر روحانی دنیا سے جڑ گیا۔ وہ انسانوں کی طرف سے اپنا رخ موڑ کر خدا کی طرف دیکھنے لگا۔ نبوت کے بعد پیغمبر اسلام کے اندر یہی نفسیاتی حالت پیدا ہوئی۔ چناں چہ آپ کو مدثر اور مزمل کے لفظ سے خطاب کیا گیا۔
صوفی کلچر اس مخصوص نام (تصوف) سے عباسی خلافت کے زمانے میں شروع ہوا۔ اُس وقت صوفی مزاج کے لوگوں نے پیغمبر اسلام کی پیروی میں ”چادر اوڑھنا شروع کیا۔ یہ چادر عام طور پر صوف (اون) کی بنی ہوئی ہوتی تھی۔ اس لیے ایسے لوگوں کو صوفی کہا جانے لگا، یعنی اون کی چادر اوڑھنے والے۔ پھر صوفی کے لفظ نے مزید ترقی کی اور اس فعل کو تصوف کہا جانے لگا۔ بعد کے زمانے میں اگر چہ تصوف کے حلقوں میں کچھ بدعتیں رائج ہو گئیں، مگر ابتدائی زمانے میں تصوف کا مطلب صرف یہی تھا۔ صوفی ازم اور روحانیت اور ربانیت سب تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں ۔ یہ سب بنیادی طور پر مراقبہ (meditation) پر مبنی ہیں۔ یعنی داخلی عبادت کرنا ، ذکر و فکر میں مشغول ہو کر حقیقتِ اعلیٰ کی طرف دھیان لگانا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ عمل دنیا میں رہتے ہوئے انجام دیا جاتا ہے، نہ کہ دنیا سے باہر جنگلوں اور پہاڑوں میں جا کر۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی تصوف یا ربانی زندگی کا بہترین اظہار مندرجہ ذیل حدیث میں پایا جاتا ہے:
وعلى العاقل مالم يكن مغلوباً على عقله أن تكون له ساعات۔ ساعة يناجي فيها ربه، وساعة يحاسب فيها نفسه، وساعة يتفكر فيها في صنع الله تعالى، وساعة يخلو فيها لحاجته من المطعم والمشرب (صحيح ابن حبان عن أبي ذر، جامع العلوم والحكم لابن رجب الحنبلی البغدادی، صفحہ (98)
یعنی ہر صاحب عقل پر لازم ہے کہ اُس کے لیے کچھ گھڑیاں ہوں ۔ (1) وہ گھڑی جب کہ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues