Al-Risala · August 2007 · page 24

دعوہ ورک، کمیونٹی ورک

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۲۴

مطابق، آخرت کے اعتبار سے صرف دو چیزوں کی اہمیت ہے— ایک، اللہ سے عجز کا تعلق، اور دوسرے، اللہ کے بندوں کو اللہ کا پیغام پہنچانا، جس کو میں نے دعوہ ورک کہا ہے۔ صحیح مسلم اور مسند احمد میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کے مطابق، حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، عبداللہ بن جُدعان جاہلیت کے زمانہ میں خوب صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو بہت کھانا کھلاتا تھا تو کیا اُس کا یہ عمل اُس کو آخرت میں نفع دے گا۔ آپ نے فرمایا کہ اے عائشہ، نہیں۔ اُس نے کسی دن یہ نہ کہا کہ: ربّ اغفر لي خطيئتي يوم الدين (اے میرے رب، جزا کے دن میرے گناہ کو معاف کر دے) صحیح مسلم، کتاب الایمان، مسند احمد 6/93۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رب اغفر لي خطیئتی یوم الدین کے الفاظ میں کچھ ایسے فضائل چھپے ہوئے ہیں کہ اگر کوئی آدمی ان الفاظ کو اپنی زبان سے بول دے تو اُس کے بعد پر اسرار طور پر اُس کو نجات حاصل ہو جائے گی۔ یہ جملہ دراصل عجز کا کلمہ ہے، نہ کہ معروف معنوں میں فضیلت کا کلمہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا کی بے پایا ں عظمت کو اس طرح دریافت کرے کہ اُس کے مقابلہ میں وہ سراپا عجز بن جائے۔ اُس کا عاجزانہ احساس اُس کے دل کی گہرائیوں سے مذکورہ دعا کی صورت میں نکلنے لگے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی بندہ کی طرف سے جو چیز سب سے زیادہ محبوب ہے وہ عجز ہے، وہ عجز جو داخلی معرفت کا اظہار ہو، نہ کہ محض کچھ الفاظ کی تکرار۔ دعوہ ورک سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ اور شہادت علی الناس جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ حق کی پیغام رسانی کا وہی کام ہے جس کو پیغمبر نے اپنے معاصرین کے سامنے انجام دیا۔ یہ کام ہر قوم میں اور ہر نسل میں مطلوب ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اُس کو ہر زمانہ میں مسلسل طور پر جاری رکھا جائے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پیغمبر نے اپنے زمانہ میں براہِ راست طور پر اس دعوتی کام کو انجام دیا تھا۔ اور امت مسلمہ کی بعد کی نسلیں بالواسطہ طور پر اُس کو ہر زمانہ میں انجام دیتی رہیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ایمان باللہ آدمی کے اندر عجز کی کیفیت پیدا نہ کرے وہ ایمان ہی نہیں۔ اسی طرح جو شخص دعوت الی اللہ کا کام انجام نہ دے اُس کے بارے میں یہ امر ہی مشتبہ ہے کہ وہ آخرت میں امت محمدی میں شمار ہو گا یا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page