Al-Risala · August 2007 · page 25

ڈی لنکنگ پالیسی

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۲۵

ڈی لنکنگ پالیسی

اسلام کی ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کو اعراض (الحجر : 94) کرنا کہا جاتا ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو ڈی لنکنگ پالیسی (de-linking policy) کہہ سکتے ہیں۔ یہ ڈی لنکنگ پالیسی بے حد اہم ہے۔ عملی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں۔ مثال کے طور پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان 1947 سے جھگڑا شروع ہو گیا۔ یہ جھگڑا کشمیر کو لے کر تھا۔ اس جھگڑے میں آدھی صدی سے زیادہ مدت گزر گئی۔

انڈیا اور پاکستان دونوں سرحدی ملک ہیں۔ دونوں کے درمیان بہت بڑے پیمانے پر اقتصادی لین دین ہو سکتا ہے، مگر پاکستان کے لیڈروں نے یہ شرط لگائی کہ جب تک کشمیر کا جھگڑا طے نہ ہو، وہ انڈیا کے ساتھ اقتصادی تعلقات قائم نہیں کر سکتے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو بے شمار نقصانات اٹھانے پڑے۔ حالاں کہ اس مسئلے کا سادہ حل یہ تھا کہ پاکستان ڈی لنکنگ کی پالیسی اختیار کرے۔ وہ کشمیر کے ایشو پر امن گفت و شنید کی میز پر رکھ دے اور انڈیا کے ساتھ ہر قسم کے اقتصادی تعلقات بحال کر لے، مگر پاکستان کے لیڈروں نے ایسا نہیں کیا۔ اس طرح وہ عظیم فوائد سے محروم ہو گئے۔ یہی معاملہ انفرادی زندگی کا ہے۔ شوہر اور بیوی کے درمیان اکثر جھگڑے پیش آتے ہیں، یہ جھگڑے زیادہ تر ذوقی یا مزاجی اختلاف کی بنا پر ہوتے ہیں۔ اس قسم کے نزاعات کا سادہ حل یہ ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں ڈی لنکنگ کی پالیسی اختیار کر لیں۔ وہ اختلافی معاملے کو سائیڈ میں رکھ کر بقیہ معاملات میں خوش گوار زندگی گزاریں۔ خاندانی زندگی کے مسائل کا یہی بہترین حل ہے۔ ڈی لنکنگ پالیسی کا تعلق انفرادی زندگی سے بھی ہے اور قومی زندگی سے بھی۔ انسانی تعلقات کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے یہی بہترین پالیسی ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، انسانوں کے درمیان اختلافات کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ ایسی حالت میں مسئلے کا حل اختلافات کو مٹانا نہیں ہے، بلکہ اختلافات کے معاملے میں ڈی لنکنگ کی پالیسی کو اختیار کر لینا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page