Al-Risala · August 2007 · page 26

صحیح طرزِ فکر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۲۶

صحیح طرزِ فکر

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کنفیوژن کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ یہ ایک حد اہم مسئلہ ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ 99 فیصد سے زیادہ لوگ کنفیوزڈ تھنکنگ (confused thinking) میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ اس نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں جس کو رائٹ تھنکنگ (right thinking) کہا جاتا ہے۔ رائٹ تھنکنگ دراصل سدا فِکر (sound thinking) کا دوسرا نام ہے۔ انسان کو چاہیے کہ سب سے پہلے وہ آرٹ آف تھنکنگ میں مہارت حاصل کرے اس کے بغیر اس کی پوری زندگی بے معنی ہو کر رہ جائے گی، فکری اعتبار سے بھی اور عملی اعتبار سے بھی۔ کنفیوژن کا یہ مسئلہ صرف انسان کا مسئلہ ہے۔ حیوانی دنیا (animal world) اس مسئلے سے آشنا نہیں۔ کوئی بھی حیوان اپنی زندگی کا کورس متعین کرنے کے لیے کبھی کنفیوژن کا شکار نہیں ہوتا۔ چیونٹی سے لے کر شیر تک اور مچھلی سے لے کر چڑیا تک ہر حیوان کا رویہ ہمیشہ درست رویہ ہوتا ہے۔ ہر حیوان قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا مالک ہے۔ حیوانات کے اس قابل رشک پہلو کو ٹی وی پر اینمل ورلڈ (Animal World) کے پروگرام میں دیکھا جا سکتا ہے۔ حیوانات معیاری حد تک ٹھیک وہی کرتے ہیں جو کہ از روئے واقعہ انھیں کرنا چاہیے۔

اس کے مقابلے میں انسان کو دیکھیے تو یہاں بالکل مختلف منظر دکھائی دے گا۔ انسان فکری بے راہ روی کا نمونہ نظر آتا ہے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس فرق کا بنیادی سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ تنظیمِ فکر (thought management) ہے۔ حیوانات میں تنظیم فکر کامل طور پر موجود ہے۔ جب کہ انسان میں تنظیم فکر کا فقدان ہے۔

یہاں دوبارہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حیوان اور انسان میں یہ فرق کیوں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حیوان اپنی جبلت (instinct) سے کنٹرول ہوتا ہے، اس کی جبلت اس کے اندر تنظیم فکر کی یقینی ضمانت ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں انسان ایک آزاد مخلوق ہے۔ انسان آزادانہ طور پر سوچتا ہے اور خود اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page