Al-Risala · January 2007 · page 36

نئی دہلی، ۲۹ جولائی ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۳۶

موجود کسی لفظ کو حسنِ ترتیب کے ساتھ اگر پیش کرے تو مجھے نبیس معلوم کہ اس میں اشکال کیوں کر ہو سکتا ہے، کیا حالات اور زمانہ کے شکست و ریخت کی وجہ سے الفاظ و اصطلاحات میں تبدیلی نبیس آتی؟ جہاں سیکڑوں افکار و نظریات ہر آئے دن جنم لے رہے ہوں ایسے ماحول میں بسنے والا انسان خواہ کسی بھی عمر کا ہو اسلام میں موجود مفرد الفاظ کو ترکیب کا جامہ پہنا کر بیان کردے تو اس میں کون سا تعجب ہے؟ کیا اگر کسی نے ایسا کر دیا تو وہ مجتہد مطلق ہو جاتا ہے؟ کیا اجتہادِ مطلق کی یہی تعریف ہے کہ دو لفظوں کو ایک کر دیا جائے؟

میری یہ فکر بھی آپ کے اشکال کا باعث بن سکتی ہے کہ حادثہ سنامی کے وقت عالم اسلام کے تمام فقہاء، مجتہدین، دانشوران اور مفکرین نے بیک زبان کہا کہ یہ عذاب الہی ہے، جب کہ راقم کا موقف یہ تھا کہ اس طرح کے حادثات کو عذاب الہی سے جوڑنا دانشمندی نہیں، سورہ طور اور سورہ تکویر کی آیتوں کی تفسیر میں قدیم تمام مفسرین کی آراء سے اختلاف کرتے ہوئے ان آیتوں کو میں نے قرب قیامت کی ہولنا کیوں پر محمول کرنے کے بجائے حقیقت پر محمول کیا، جس کی یہاں پورے امریکا میں زبردست پذیرائی ہوئی، تو کیا اسے بھی اجتہاد مطلق کی نوعیت کا واقعہ سمجھ لیا جائے؟ الازہر میں تعلیم کے دوران اپنے ایک استاذ ڈاکٹر عبد المعطی بیومی جو فلسفہ کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ فقیہ اعظم سمجھے جاتے ہیں اور مصری پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں، سے شہادت کے مسئلہ پر سیکڑوں عربی و عجمی طلبہ کی موجودگی میں مسلسل تین دن گفتگو کرتا رہا جہاں تمام فقہاء سے میرا نظریہ بالکل الگ تھا اور بعد میں جس کی میرے استاذ نے مجھے مبارک باد بھی دی تو کیا اسے بھی اجتہاد مطلق سمجھ لیا جائے؟ آپ کی رائے میں اگراس طرح کے واقعات کا تعلق اجتہاد مطلق سے ہے تو الحمد للہ راقم مجتہد مطلق ہے۔ علم و تحقیق کے میدان میں میرا نہیں خیال کہ عمر سے بحث کی جاتی ہے، اگر عمر کا دخل مان لیا جائے تو سیکڑوں وہ علماء جو بارہ، اٹھارہ اور ہیں سال کی عمر میں ہی قوم مسلم کے امام بن چکے تھے، کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ امام غزالی کی المنقذ من الضلال“ آپ کے مطالعہ میں یقیناً آئی ہوگی، کیا انہوں نے اپنے فکری سفر کا آغاز بیس سال سے قبل کی عمر میں نہیں کیا تھا؟ اگر عمر ہی مقیاس ہے تو آج سیکڑوں مسلم فلاسفہ اور مستشرقین ہیں سال سے پہلے فکری سفر شروع کرنے والے غزالی کے ’’منہج شک“ پر کیوں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں؟ پھر عجیب تضاد بیانی بھی ہے جب متفقہ طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے“ تو پھر استثنائی طور پر بڑی عمر کے تجربہ کار لوگوں کو ان کی علمی کاوش کے نتیجہ میں کیوں مجتہد مطلق مانا جا رہا ہے؟

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page