نئی دہلی، ۲۹ جولائی ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۳۷
ویسے میں اس نظریے سے خود بھی اتفاق نہیں کرتا کہ اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ اب کوئی مجتہد مطلق پیدانہیں ہوگا، اس سلسلہ میں درجنوں علماء کے مواقف موجود ہیں، خاص طور پر علامہ سیوطی کا رسالہ ”الرد علی من اخلد الی الأرض وجهل ان الاجتهاد فی کل عصر فرض“ شاہد عدل ہے۔
میں نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۶ جولائی میں یہ لکھا تھا کہ یہاں مجھے”ضرورت“ لکھنا تھا جو”عرف“ لکھ گیا ہے، مگر آپ نے اس جانب کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ یہ چند الفاظ ذہن میں آئے تھے جو آپ کے جواب میں تحریر کردیا ہوں، اگر میری بات میں کہیں سختی آگئی ہو تو درگزر کیجئے گا۔
والسلام ۶ اگست ۲۰۰۶ء منظر الاسلام از ہری مضمون نگار کے اس طویل خط کو پڑھنے کے بعد میں نے دوبارہ ان کو اپنا درج ذیل خط روانہ کیا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ برادر محترم مولانامنظر الاسلام ازہری!
آپ کا خط مورخہ ۶ اگست ۲۰۰۶ء ملا۔ اس کو تین بار پڑھنے کے بعد میں اپنا یہ خط تحریر کر رہا ہوں۔ عرض یہ ہے کہ آپ نے اپنے تفصیلی خط میں جو باتیں لکھی ہیں، وہ سب میرے سوال کی نسبت سے بالکل غیر متعلق (irrelevant) ہیں۔ ان باتوں سے میرے سوال پر کوئی روشنی نہیں پڑتی۔
میرا سوال سادہ طور پر صرف یہ ہے کہ دار الدعوہ کی اصطلاح، آپ کی خود اپنی ذاتی دریافت ہے، یا آپ نے اس کو کسی کتاب میں پڑھا ہے، یا اس کو کسی عالم سے سنا ہے۔ دونوں میں سے جو بات بھی ہو، اس کو آپ پوری صراحت کے ساتھ تحریر فرمائیں۔
ایسی حالت میں آپ کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا تو آپ واضح الفاظ میں یہ کہیں کہ دار الدعوہ کی اصطلاح مجھے کہیں اور سے نہیں ملی، بلکہ میں نے اس کو خود اپنے طور پر بطور ذاتی دریافت کے پایا ہے۔ یا پھر متعین طور پر صفحہ نمبر کے ساتھ آپ یہ بتائیں کہ میں نے فلاں مصنف کی فلاں کتاب میں اس کو پڑھا، یا اس کو فلاں عالم یا فلاں مصنف سے سنا ہے اور پھر میں نے اس کو اختیار کر لیا۔ میں نے آپ سے صرف یہی بات دریافت کی تھی، اور اسی کا واضح جواب میں آپ سے معلوم کرنا چاہتا ہوں ۔ مجھے امید ہے کہ آپ میرے اصل سوال کو سمجھ کر متعین الفاظ میں اس کا جواب روانہ فرمائیں گے۔ نئی دہلی، ۱۰ اگست ۲۰۰۶ء دعاگو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues