صحیح طرزِ فکر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۲۸
انسان کی جسمانی تکلیف کو دور کرنے کی۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کی جسمانی تکلیف دور کرنا ایک مفید کام ہونے کے باوجود وہ اصل کام نہیں۔ اس لیے کہ انسان ایک فکری حیوان (thinking animal) ہے۔ جسمانی اعتبار سے صحت مند ہوتے ہی وہ دوسری شدید تر فکری بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مثلاً تکبر، حسد، انتقام، اقتدار پسندی، خود غرضی، عصبیت، بے اعترافی اور سرکشی، وغیرہ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ انسان اگر مسائل کے درمیان ہو تو اس کے اندر تواضع (modesty) پرورش پاتی ہے۔ وہ دوسروں کے لیے نو پرابلم انسان بنا رہتا ہے۔ لوگوں کی جسمانی تکلیف کو دور کرنا صرف ایک جزئی کام ہے۔ زیادہ بڑا کام یہ ہے کہ انسان کے اندر صحیح طرزِ فکر (right thinking) کا مادہ پیدا کیا جائے، اس کو اس کے روحانی ارتقا (spiritual development) میں مدد دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مدرٹریسا اپنے مشن کے ابتدائی مرحلے میں حالت اطمینان میں تھیں، مگر وہ اپنے مشن کے آخری مرحلے میں مایوس ہو کر مریں۔ کیوں کہ جب مدر ٹریسا کے ادارے کو کافی شہرت اور دولت مل گئی تو ان کے ”تندرست‘‘ ساتھیوں نے ان کو ایسی پریشانی میں مبتلا کر دیا جس کا تجربہ ان کو اپنے ’’مریض‘‘ ساتھیوں سے نہیں ہوا تھا۔
1947 سے پہلے کے دور میں اقبال اور جناح جیسے لوگوں نے یہ سوچا کہ ہندو مسلم مشترک لینڈ کے مقابلے میں علیٰ حدہ مسلم لینڈ مسلمانوں کے سارے مسائل کا حل ہے۔ مگر جب یہ علیٰ حدہ مسلم لینڈ بن گیا تو معلوم ہوا کہ اس علیٰ حدہ مسلم لینڈ میں اس سے بھی زیادہ مسائل ہیں جتنا کہ ہندو مسلم مشترک لینڈ میں ہیں، یا ہو سکتے تھے۔ اس اندوہ ناک انجام کا سبب یہ ہے کہ اقبال اور جناح جیسے لوگ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے کہ پاکیزہ معاشرے کا تعلق پاکیزہ انسان سے ہے۔ پاکیزہ معاشرہ اس طرح نہیں بن سکتا کہ کسی لینڈ کو سیاسی اعتبار سے الگ کر کے اس کا نام پاکیزہ لینڈ رکھ دیا جائے۔ اس معاملے میں انسان کی ایک سنگین غلطی یہ ہے کہ وہ ایک واقعہ کو دوسرے واقعہ سے جوڑ کر نہیں دیکھ پاتا۔ چناں چہ علیٰ حدگی پسندی کی جو سیاست پاکستان کی صورت میں اندوہ ناک حد تک ناکام ہو چکی ہے۔ اب کشمیر کے مسلمان ٹھیک اسی سیاست کو دہرانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے پاکستان کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues