Al-Risala · August 2007 · page 29

In comparison that we understand.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۲۹

انجام سے کوئی سبق نہیں لیا۔ حالاں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیر خواہ آزاد کشمیر بنے یا پاکستانی کشمیر، دونوں حالتوں میں اس کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ حالات کے اعتبار سے کشمیر کے لیے بہترین پالیسی یہ تھی کہ وہ تاریخ کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ مل کر رہے۔ ہندو۔ مسلم مشترک سماج کشمیر کی ترقی کے لیے زیادہ مفید ہے۔

سدا د فکر کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی واقعات کو تقابلی انداز میں دیکھ سکے۔ یہی وہ حکمت ہے جس کو شیکسپیئر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

In comparison that we understand.

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے میں یہاں ایک مثال دوں گا۔ ایمرجنسی کے بعد 1970 میں انڈیا کا جنرل الیکشن ہوا۔ اس وقت جے پرکاش نرائن نے نان کانگریس ازم کی تحریک چلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس راج ملک کی ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ انھوں نے نعرہ دیا کہ کانگریس کو ہٹاؤ، ملک میں ٹوٹل ریولیوشن لاؤ۔ ایمرجنسی کی وجہ سے عوام بہت برہم تھے۔ چناں چہ نان کانگریس ازم کا نعرہ کامیاب ہوا اور کانگریس، الیکشن میں بری طرح ہار گئی۔ اس کے بعد نئی دہلی میں جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی ۔ یہ حکومتی تبدیلی جے پر کاش نرائن کے پروگرام کے عین مطابق تھی۔ مگر جہاں تک حقیقی سطح پر سماجی اور قومی حالات کا معاملہ ہے اس میں کچھ بھی تبدیلی نہیں آئی، بلکہ اور زیادہ بگاڑ پیدا ہو گیا حتی کہ خود جنتا پارٹی کی حکومت اپنا ٹرم پورا نہ کرسکی اور ڈھائی سال کے اندر ہی ختم ہوگئی۔ لکھنؤ میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں:

Mohmmad Hassan Nadwi Star Mobiles & Electronics, Shop No. 6, Sabzi Mandi, Sattya Market, Sector: 17, Lucknow (U.P.) 226016 Mobile: 0930356090, Email: mhcps@yahoo.com

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page