امانی ، عمل
الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۳۹
امانی ، عمل
مفسر ابن کثیر نے نقل کیا ہے کہ کچھ مسلمان اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) باہم ملے اور انھوں نے ایک دوسرے پر فخر کیا (إن المسلمین وأهل الكتاب افتخروا) ۔ اہل کتاب نے کہا کہ ہمارا نبی تمھارے نبی سے پہلے ہے اور ہماری کتاب تمھاری کتاب سے پہلے ہے، ہم اللہ کے زیادہ قریبی لوگ ہیں، وغیرہ۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہم اللہ کے زیادہ قریبی ہیں۔ کیوں کہ ہمارا نبی تمام نبیوں کا خاتم ہے اور ہماری کتاب تمام کتابوں کی ناسخ ہے۔ اس پر قرآن کی وہ آیتیں اتریں، جن کا ترجمہ یہ ہے : نہ تمھاری آرزوؤں (امانی) پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص بھی برا عمل کرے گا اس کو اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ اور وہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا حمایتی اور مددگار نہ پائے گا۔ اور جو شخص نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا (النساء: 124-123)
اس آیت میں وہ خاص گم راہی بتائی گئی ہے جس میں آسمانی کتاب کی حامل قومیں اپنے دور زوال میں مبتلا ہوتی ہیں، یہ ہے— فخر کی بنیاد پر جینا، امانی کو عمل کا بدل سمجھ لینا۔ ”آخرت میں اللہ کے سوا کوئی مددگار نہ ہوگا“ کا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں کسی شخص کو پکڑ سے بچانے والی چیز اللہ کا یہی قانون ہوگا جو یہاں بیان ہوا۔ یعنی وہاں سچا عمل آدمی کے کام آنے والا ہے نہ کہ بے بنیاد آرزوئیں۔
فخر اور امانی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ— اللہ سے ہمارا خصوصی رشتہ ہے۔ ہم محبوبِ خدا کی امت ہیں۔ ہم اولیاء اور بزرگوں کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ ہم عظیم ترین تاریخ کے وارث ہیں۔ ہم مرحوم و مغفور امت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم کلمہ گو اور عاشق رسول ہیں۔ ہم کو اکابر و اعاظم کی نسبت حاصل ہے، وغیرہ۔
اس قسم کے خیالات لوگوں کے اندر فرضی بھرم پیدا کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues