امانی ، عمل
الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۴۰
مختلف سمجھ لیتے ہیں۔ مگر یہ سب بے بنیاد آرزوئیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ خوش فہمیاں کام آئیں گی اور نہ اسلام پر فخر کرنا وہاں کام دے گا۔ اللہ کے یہاں ہر آدمی کی جانچ صرف اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر ہوگی، اس کے سوا ہر چیز وہاں بالکل بے قیمت ٹھہرے گی، خواہ آدمی کی اپنی نظر میں اس کی کتنی ہی زیادہ قیمت کیوں نہ ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ فخر ایمان کی ضد ہے۔ جب آدمی کو عظیم خدا کی دریافت ہوتی ہے تو عین اُس کے نتیجے میں اُس کے اندر تواضع کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔ خدا کی عظمت آدمی کے اندر ذاتی عظمت کے تمام احساسات کو مٹا دیتی ہے۔ آدمی خدا کی بڑائی میں جینے لگتا ہے۔ ایمان دراصل خدا کی بڑائی کے مقابلے میں اپنے عجز کی دریافت کا نام ہے۔
جس آدمی کے اندر خدا کی دریافت اِس قسم کی متواضعانہ نفسیات پیدا کردے، وہ کبھی لوگوں کے درمیان فخر کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ یہ ناممکن ہے کہ انسان دو مختلف احساسات کے درمیان جئے۔ ایک طرف اس کے اندر فخر کا احساس ہو، اور دوسری طرف اس کے اندر تواضع کی نفسیات بھری ہوئی ہو۔ جب تواضع آئے گی تو اپنے آپ فخر کا احساس اُس کے اندر سے نکل جائے گا۔ تراجم — ’تذکیر القرآن‘ ’تذکیر القرآن‘ کے ہندی اور انگریزی ترجموں کے بعد اب دیگر مقامی زبانوں — تلگو، تامل، آسامی، گجراتی، مراٹھی، پنجابی، بنگالی، اُڑیا، کنڑ، نیز مختلف عالمی زبانوں — جرمن، فرنچ، اسپینش، روسی، جاپانی اور چینی، وغیرہ میں اُس کا ترجمہ اور اشاعت مطلوب ہے۔
جو حضرات ’تذکیر القرآن‘ کے ترجمہ اور اشاعت کا دعوتی کام کرنا چاہتے ہوں، وہ ادارے کو اپنا مخلصانہ تعاون دیں، اور اپنے مکمل پتے سے آگاہ فرمائیں۔ اِس سلسلے کے تمام اخراجات ادارے کے ذمے ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues