Al-Risala · August 2007 · page 42

احتیاط ضروری ہے

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۴۲

ایک خط

برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ 26 مئی 2007 کی صبح کو آپ نے ٹیلی فون پر بتایا کہ آج جسٹس ایم ایم قاضی کا انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اُن کے صاحب زادے کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان کی پیدائش فروری 1930 میں ہوئی تھی۔ جسٹس صاحب سے میری پہلی ملاقات غالباً بمبئی میں ہوئی، جب کہ وہ وہاں جسٹس کے عہدے پر تھے۔ اس کے بعد بمبئی میں اور ان کے وطن ناگ پور میں بار بار ان سے ملاقات ہوتی رہی۔ وہ بڑی عجیب صلاحیتوں کے آدمی تھے۔

ایک بار انھوں نے بمبئی کی ملاقات میں مجھ سے کہا کہ ریلیونس (relevance) اور ارریلیوینس (irrelevance) کا جتنا اکیوٹ سینس (acute sense) میں نے آپ کے اندر پایا، کسی اور کے اندر نہیں پایا۔ میں نے کہا کہ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس کے اندر خود یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہو ۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ جسٹس قاضی کے اندر یہ صفت بہت زیادہ پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اُن سے میرا انٹلکچول ایکسچینج دیر دیر تک ہوتا تھا اور دونوں میں سے کوئی بھی اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا تھا۔ جسٹس قاضی کو شعر و شاعری کا ذوق تھا۔ وہ اقبال کے بہت قدرداں تھے۔ چناں چہ کئی بار ایسا ہوا کہ گفتگو کے دوران اقبال کا ذکر آگیا۔ میں نے اقبال پر تنقید کی، مگر جسٹس قاضی نے کبھی بھی میری تنقید کا بُرا نہیں مانا، بلکہ اس کے علمی وزن کا اعتراف کیا۔ مثلاً ایک بار میں نے کہا کہ لوگ اقبال کو تھنکر پوئٹ کہتے ہیں۔ میرے نزدیک وہ پوئٹ تو ضرور تھے، لیکن وہ تھنکر نہ تھے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اقبال کا ایک مشہور شعر ہے:

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر اقبال کا یہ شعر بتاتا ہے کہ اُن کے اندر تجزیہ (analysis) کی صلاحیت نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے قرآن کے نام پر اتنا زیادہ کام کیا ہے جو پچھلی صدیوں میں کبھی نہیں ہوا۔ موجودہ زمانے میں جتنی زیادہ نمازیں پڑھی جا رہی ہیں اور جتنے زیادہ لوگ حج کر رہے ہیں،

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page