Al-Risala · September 2007 · page 2

رمضان: تقویٰ اور شکر کا مہینہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲

رمضان: تقویٰ اور شکر کا مہینہ

اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت تقویٰ کی ہے اور رمضان کے مہینے کا روزہ اسی تقویٰ کی تربیت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان لانے والو، تم پر روزہ فرض کیا گیا، جس طرح تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا، تا کہ تم تقویٰ والے بنو (البقرۃ: 182) تقویٰ کیا ہے۔ اس کی بہترین تشریح ایک حدیث سے ہوتی ہے:

إِنّ عمر بن الخطاب رضی الله عنه سأل ابیّ بن کعب عن التقوى، فقال له: أما سلکتَ طریقاً ذا شوک۔ قال بلیٰ، قال فما عملتَ۔ قال : شمّرتُ واجتهدتُ۔ قال فذلك التقوى (تفسیر ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 40)

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب سے تقویٰ کے بارے میں پوچھا۔ ابی بن کعب نے کہا کہ کیا آپ کسی کانٹے دار راستے سے گزرے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ انھوں نے پوچھا کہ پھر آپ نے کیا کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے اور بچ کر اس سے گزر گیا۔ ابی بن کعب نے جواب دیا کہ یہی تقویٰ ہے۔

موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اسی لیے یہاں بہت سی غیر مطلوب چیزیں بھی موجود ہیں۔ مومن کو ان چیزوں سے بچتے ہوئے اپنا سفر حیات طے کرنا ہے۔ اسی پرہیز گارانہ رویے کا نام تقویٰ ہے، اور رمضان کا روزہ اسی تقویٰ کی تربیت ہے۔

روزے میں کیا ہوتا ہے۔ روزے میں آدمی اپنا کھانا اور پانی ایک مقررہ مدت کے لیے چھوڑتا ہے۔ اپنی عادتوں کو ترک کرتا ہے۔ اپنی خواہشوں پر روک لگاتا ہے۔ اسی طرح وہ اس بات کی تربیت حاصل کرتا ہے کہ وہ کچھ چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ وہ کچھ چیزوں سے بچ کر زندگی گزارے۔ روزہ اسی پر ہیزگاری کی انتہائی تربیت ہے۔ روزہ رکھ کر آدمی یہ عہد کرتا ہے کہ نا جائز چیزیں تو در کنار، اگر اللہ کی مرضی ہو تو وہ جائز چیزوں کو بھی اللہ کی خاطر چھوڑ دینے کے لیے تیار ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page