Al-Risala · September 2007 · page 3

رمضان: تقویٰ اور شکر کا مہینہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳

روزے میں کھانا اور پینا چھوڑنا، ایک علامتی ترک ہے۔ اصل میں جو چیز ترک کرنا ہے، وہ تو خدا کی ممنوعہ چیزیں ہیں۔ ممنوعات کا وقتی ترک، ممنوعات کے اُسی مستقل ترک کی مشق ہے۔ کیوں کہ جو آدمی اللہ کے لیے غیر ممنوعات کو چھوڑنے پر راضی ہو، وہ ممنوعات کو بدرجہ اولیٰ چھوڑنے پر راضی ہو جائے گا۔

موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان جس بات میں ہے، وہ یہی ہے کہ وہ حرام اور حلال میں فرق کرے۔ وہ حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے والا بنے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارے۔ اِسی ذمّے دارانہ زندگی کی تربیت کے لیے روزے کا طریقہ اہلِ ایمان کے اوپر فرض کیا گیا ہے۔ روزہ محض اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی حقیقی اسپرٹ کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ اِسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پانی چھوڑ دے (صحیح البخاری) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کچھ لوگوں نے ایسا کیا کہ انھوں نے روزہ رکھا اور اسی کے ساتھ انھوں نے غیبت کا فعل کیا جو اسلام میں حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ انھوں نے خدا کی جائز کی ہوئی چیز سے روزہ رکھا اور اس کی ناجائز کی ہوئی چیز سے انھوں نے افطار کر لیا۔

متقیانہ زندگی کو دوسرے لفظوں میں، محتاط زندگی کہہ سکتے ہیں۔ ایک انسان وہ ہے جو احتیاط کے تصور سے خالی ہو، وہ بلاقید جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو احتیاط کے طریقے کو اختیار کئے ہوئے ہو— وہ ایک محکم اصول کے تحت، کسی روش کو اختیار کرے اور کسی روش کو اختیار نہ کرے، یہی معاملہ متقی انسان کا ہے۔ متقی انسان مکمل طور پر ایک محتاط انسان ہوتا ہے۔ وہ اپنے قول اور عمل کو خدا کی مرضی کے تابع کر دیتا ہے۔

روزہ آدمی کے اندر تقویٰ اور احتیاط کا یہی مزاج پیدا کرتا ہے۔ رمضان کی ماہانہ تربیت آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ پورے سال تک اِس طرح زندگی گزارے کہ وہ مباحات کے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page