نئی دہلی، ۲۹ جولائی ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۳۹
برادر محترم مولانا منظر الاسلام ازہری !
یہ خط میں آپ کے ساتھ اپنی سابقہ مراسلت کے ضمن میں لکھ رہا ہوں ۔ میں نے اپنے خط مؤرخہ ۱۵ اگست ۲۰۰۶ میں لکھا تھا کہ آپ کے جواب کے الفاظ مبہم ہیں ، آپ صریح الفاظ میں معاملے کی وضاحت فرمائیں ۔ مثلاً آپ یہ تحریر فرمائیں کہ ـــ دار الدعوۃ کی اصطلاح میں نے خود اپنے ذہن سے وضع کی ہے ، کسی اور کی تقریر یا تحریر سے اخذ کرکے میں نے دار الدعوۃ کی اصطلاح وضع نہیں کی ۔ امید ہے کہ آپ اس سلسلے میں جلد اپنا واضح جواب ارسال فرمائیں گے ۔
نئی دہلی ، ۳۰ اگست ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین مراسلت نمبر ۱۲ مولا نا علی میاں کے خطوط کا ایک مجموعہ معروف عالم دین اور مفسر قرآن مولانا عبدالکریم پاریکھ (ناگ پور) نے شائع کیا۔ اس مجموعے میں ایک خط مجھ سے متعلق تھا۔ اس خط کو پڑھ کر میں نے مولانا موصوف کی خدمت میں ایک خط روانہ کیا۔ اس سلسلے کی مراسلت یہاں درج کی جاتی ہے :
مکرمی و محترمی مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کی صحت اور عافیت کے لیے دعا گو ہوں۔ عرض یہ کہ آپ کی شائع کردہ کتاب نظر سے گذری جس کا پورا نام یہ ہے ــــ "مرشد روحانی ، مصلح امت حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی صاحب عرف علی میاں صاحب کے خطوط ، حضرت مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب کے نام "۔
آپ کی اس کتاب کا مکتوب نمبر ۱۱۳ میرے لیے نا قابل فہم ہے۔ چوں کہ کاتب محترم کی وفات ہو چکی ہے ، اس لیے اس کی وضاحت کے لیے آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں ۔ آپ کے نام حضرت مولانا کے مذکورہ مکتوب کے الفاظ یہ ہیں : " اپنی خیریت کی اطلاع کے علاوہ میں یہ خط اس ضرورت سے بھی لکھ رہا ہوں کہ میرے پاس حیدر آباد سے ایک فہیم وسنجیدہ دوست کا خط آیا ہے کہ ندوہ ایجنسی کے نام سے ، سید جمیل الدین صاحب کی طرف سے جو اشتہار شائع ہوا ہے اس کا تعارف کرایا گیا ہے۔ اس میں میری کتابوں کے علاوہ جہاں بعض اور دوسرے حضرات کی تصنیفات کا تذکرہ ہے ، اُن میں مولوی وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں کے دستیاب ہونے کا بھی اعلان ہے۔ میں سید جمیل الدین صاحب کو براہ راست نہیں لکھنا چاہتا ۔ آپ اشارہ کر دیں کہ اُن کے بہت سے خیالات سے اتفاق نہیں۔ اور
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues