Al-Risala · January 2007 · page 40

نئی دہلی، ۲۹ جولائی ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۴۰

ہماری اور اُن کی کتابوں کا جوڑ نہیں۔ اس لیے آئندہ وہ اس کا لحاظ رکھیں۔ آپ اپنے انداز میں مناسب طریقے سے لکھ دیجیے گا۔ مجھے مولوی وحید الدین خاں صاحب سے کوئی ذاتی خصومت نہیں۔ لیکن اُن کے خیالات میں سخت نا ہمواری اور بے اعتدالی ہے، اور سلف و مجاہدین اور شہدائے اسلام سے بد عقیدگی پیدا ہوتی ہے۔ ‘(صفحہ ۲۰۳) حضرت مولانا علی میاں کے اس مکتوب کے بارے میں آپ سے دو باتیں قابلِ دریافت ہیں۔ ایک یہ کہ مکتوب کے مطابق، میرے خیالات میں سخت نا ہمواری اور بے اعتدالی ہے، مگر اس مکتوب میں، اور نہ اس مجموعۂ خطوط میں اور نہ صاحبِ مکتوب کی دوسری کسی تحریر میں ایسی کوئی وضاحت یا حوالہ موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ کیا چیز ہے جس کو اس مکتوب میں سخت نا ہمواری اور بے اعتدالی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اپنی کتاب میں اس مکتوب کی اشاعت اور حضرت مولانا سے خصوصی قربت کی بنا پر آپ ضرور اس بات سے واقف ہوں گے۔ براہِ کرم مطلع فرمائیں کہ وہ کیا چیز ہے جس کو اس مکتوب میں سخت نا ہمواری اور بے اعتدالی قرار دیا گیا ہے۔

اس مطبوعہ مکتوب میں دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ راقم الحروف کی کتابوں سے اسلاف کے بارے میں بد عقیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں بھی اس مکتوب میں کوئی وضاحت یا حوالہ موجود نہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ میری کتابوں میں وہ کون سی بات ہے جو اسلاف کے بارے میں بد عقیدگی پیدا کرتی ہے۔ حضرت مولاناعلی میاں کا یہ بیان بلاشبہ ایک بے دلیل بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۵۹ء میں حضرت مولانا علی میاں کی ایک عربی کتاب چھپی۔ اس کا نام یہ تھا: ردّۃ ولا أبا بکر لھا۔ اس کتاب میں امت کے اندر ایک خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ امت کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ ذہنی ارتداد کا شکار ہو گیا ہے۔ میں نے اس مسئلے کی تحقیق کی تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کا کیس ، ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) کا کیس نہیں ہے۔ یہ لوگ ذہنی عدم اطمینان (intellectual discontent) کا شکار ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا وہ ان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتا۔ اس بنا پر وہ اسلام کی صداقت کے بارے میں ذہنی بے اطمینانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

اس دریافت کے بعد میں نے اس مسئلے کو اپنا موضوع بنا لیا۔ میں نے قدیم اور جدید دونوں علوم کا گہرا مطالعہ کر کے عصری اسلوب میں بہت سی اسلامی کتابیں لکھیں، اور ان کو مختلف زبانوں میں شائع کیا۔ یہ خدا کا فضل ہے کہ یہ کتابیں نہایت مفید ثابت ہوئیں۔ اور مختلف ملکوں میں لاکھوں لوگوں کو اس سے ایمان اور یقین کا سرمایہ ملا۔ اسی بنا پر

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page