Al-Risala · September 2007 · page 13

Too broke to save the world

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۳

اس طرح انسان نے خدا کے تخلیقی نقشے کو بدل دیا۔ یہاں تک کہ اس موجودہ تہذیب پیدا کی جو آخری معنوں میں اسی فارمولے پر قائم ہے۔ خدا نے ہزاروں سال تک انتظار کیا کہ انسان اپنی روش پر نظر ثانی کرے ۔ وہ خدا کی دنیا میں اپنا ذاتی ایجنڈا چلانا بند کر دے۔ وہ اپنی اصلاح کر کے خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ وہ موجودہ دنیا کے مواقع کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے کہ وہ خدا کا وہ مطلوب بندہ بن جائے جس کو خدا اپنی ابدی جنت میں بسانے کے لیے منتخب کرے گا۔

مگر انسان اپنی روش پر نظر ثانی کرنے کے لیے تیار نہیں، یہاں تک کہ انسان کے اوپر خدا کی حجت تمام ہو گئی۔ اب انسان نے وہ جواز کھودیا جس کے تحت وہ زمین پر بسا ہوا تھا_ موجودہ گلوبل وارمنگ دراصل اسی حقیقت کا پیشگی انتباہ ہے۔

اس صورت حال میں ہر مذہب کے لوگوں کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ دنیا کو آنے والے بھیانک خطرے سے آگاہ کریں۔ وہ لوگوں کو بتائیں کہ اب تیاری کا آخری موقع ختم ہونے والا ہے۔ کسی تاخیر کے بغیر ہوشیار ہو جاؤ اور خدا کے نقشے کے مطابق، زندگی گزارنا شروع کر دو۔ لیکن ہر مذہب کے لوگ، بشمول مسلمان، کسی ”آنے والے“ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ کوئی آنے والا اپر اسرار طور پر آئے گا اور معجزاتی طاقت کے ذریعے وہ سارے کام کو انجام دے دے گا۔ مگر یہ سخت بھول کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی پُر اسرار ہستی آنے والی نہیں۔ جو چیز آنے والی ہے، وہ صرف قیامت ہے۔ اور قیامت جب آئے گی تو وہ کسی کے ساتھ بھی رعایت نہیں کرے گی۔ اُس کا معاملہ ہر ایک کے ساتھ یکساں ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page