کشمیر: ایک جائزہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۴
کشمیر: ایک جائزہ
کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ بابر (وفات: 1530) نے جب کشمیر کو دیکھا تو اُس نے کشمیر کو ’’جنت نظیر‘‘ کا نام دیا۔ اس نے کہا:
اگر فردوس بر روئے زمین است وہمین است همین است همین است یہ قبل از جہاد کے دور کا کشمیر تھا۔ بابر اگر بعد از جہاد کے کشمیر کو دیکھتا تو شاید وہ کہتا کہ پہلے میں نے کشمیر کو جنت نظیر کہا تھا، لیکن اب میں اپنے قول کو واپس لیتا ہوں۔ کیوں کہ اب کشمیر کی پہچان بدل چکی ہے۔ کشمیر اپنے قدرتی اوصاف کی بنا پر عرصے سے فطرت اور روحانیت کا خوب صورت امتزاج بنا ہوا تھا۔ یہاں کے روحانی ماحول کی وجہ سے مسلم صوفیوں کو یہاں بہت کامیابی حاصل ہوئی۔ یہاں مذہب اور روحانیت کو زبردست فروغ حاصل ہوا۔ نام نہاد جہاد سے پہلے کشمیر کو جن لوگوں نے دیکھا ہے، وہ اس بیان کی مکمل تصدیق کریں گے۔
یہ کشمیر کی خوش قسمتی تھی کہ پچھلے چند سو سالوں میں یہاں باہر سے جو مسلم صوفی آئے، یا مقامی طور پر جو صوفی پیدا ہوئے، وہ سب کے سب امن اور محبت کا پیغام دینے والے تھے۔ اس کے نتیجے میں کشمیر میں زبردست انقلاب آیا۔ کشمیر میں اسلام کو غیر معمولی طور پر فروغ حاصل ہوا۔ اگر چہ اب یہ پر اس تقریباک گیا ہے۔
شیخ نورالدین نورانی کشمیر کے صوفیوں میں سے ایک صوفی تھے۔ کشمیر کے لوگوں میں عام طور پر وہ ’’علم دار کشمیر‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ ہندو لوگ اُنھیں پیار سے ’’نندرشی‘‘ کہتے تھے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مقبول تھے۔ قصہ چرار شریف (کشمیر) میں ان کی درگاہ تھی جو کہ سری نگر سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ درگاہ 11 مئی 1995 کو ایک بھیانک آگ سے جل کر راکھ ہوگئی۔
شیخ نورالدین نورانی فیروز شاہ تغلق کے ہم عصر تھے۔ وہ 1377 ء میں کشمیر کے ایک گاؤں میں
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues