جنگ میں پہل نہیں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۰
جنگ میں پہل نہیں
قرآن کی سورہ نمبر 9 میں ارشاد ہوا ہے: ألا تقاتلون قوماً نكثوا أيمانهم وهموا بإخراج الرسول وهم بدء وكُم أوّل مَرّة (التوبة: 13) یعنی کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے جنھوں نے اپنے عہد توڑ دیے اور رسول کو نکالنے کی جسارت کی ، اور وہی ہیں جنھوں نے تم سے جنگ میں پہل کی۔ اس آیت کی تشریح میں صاحب التفسیر المظہری نے لکھا ہے: وهم بدء وكم بالقتال أوّل مرّۃ، لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم بدأ بالدعوة وإلزام الحجة بالكتاب والتحدّی بہ، فعدلوا عن معارضته إلى المعاداة والمقاتلة، حتّى اجتمعوا فی دار الندوة وأجمعوا على قتله (جلد 4، صفحہ 144)
یعنی انھوں نے تم سے جنگ میں پہل کی۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت سے آغاز کیا۔ اور کتاب اللہ کے ذریعہ حجت قائم کرنے سے اور اُس کے ذریعہ تحدّی کرنے سے مگر انھوں نے اُس کے جواب میں انحراف کیا اور دشمنی اور جنگ کا طریقہ اختیار کر لیا۔ یہاں تک کہ دار الندوہ میں اکٹھا ہو کر انھوں نے آپ کے قتل کا فیصلہ کر لیا۔
قرآن کی اس آیت کے دو پہلو ہیں۔ ایک، یہ کہ ”وہم بدء وکم“ میں جس ابتدا کا ذکر ہے، اُس سے مشرکوں کی طرف سے کیا جانے والا کون سا واقعہ مراد ہے۔ اس معاملے میں مفسرین کی ایک رائے نہیں مفسرین نے مشرکین کی طرف سے کیے جانے والے مختلف واقعات کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ آیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اُس سے ایک اصولی حکم نکلتا ہے۔ وہ یہ کہ جنگ کے معاملے میں بَدْء (آغاز) اہلِ اسلام کی طرف سے نہیں ہوگا، بلکہ فریق ثانی کی طرف سے ہوگا۔ فریق ثانی کی طرف سے جب تک جارحانہ آغاز نہ کیا جائے، اہلِ اسلام پُر امن طریق کار کے مطابق، اپنا دعوتی مشن جاری رکھیں گے۔ البتہ جب فریق ثانی کی طرف سے جارحیت کا آغاز کر دیا جائے تو اُس کے بعد اہلِ اسلام کے لیے جائز ہو جاتا ہے کہ وہ دفاع کے طور پر فریق ثانی سے جنگی مقابلہ کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues