Al-Risala · September 2007 · page 19

الرسالہ آن لائن

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۹

کشمیری جہاد کے لیڈروں میں یہ تبدیلی بلاشبہ خوش آئند ہے، لیکن ان حضرات کو اس کا کوئی کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ اس لیے کہ وہ آج امن کی بولی تو بول رہے ہیں، لیکن انھوں نے کھلے لفظوں میں یہ اعلان نہیں کیا کہ اس سے پہلے انھوں نے جو کچھ کیا، وہ بالکل غلط تھا۔ انھوں نے کشمیری قوم کی غلط رہنمائی کی۔ ان حضرات کے لیے کسی نئے رول کا آغاز اعتراف سے ہوتا ہے۔ اگر وہ کھلے طور پر اعتراف نہ کریں تو کسی نئے رول کا آغاز بھی اُن کے لیے مقدر نہیں۔

جہاں تک راقم الحروف کا تعلق ہے، میں پہلے دن سے نام نہاد کشمیری تحریک کو بے اصل سمجھتا رہا ہوں۔ میرا کہنا یہ رہا ہے کہ اس طرح کے واقعات تاریخ کے ذریعے ظہور میں آتے ہیں، نہ کہ موجودہ قسم کی تحریک کے ذریعے ۔ میرا ماننا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ انڈیا کی آزادی کے وقت ہی ہو چکا ہے۔ اب نہ اُس کو باقاعدہ جنگ کے ذریعے بدلا جا سکتا ہے اور نہ گوریلا وار کے ذریعے ۔ اس قسم کی ہر کوشش مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اُس کو مزید دہرانا، صرف اپنے نقصان میں اضافے کے ہم معنی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ انڈیا ہر اعتبار سے پاکستان سے بہت زیادہ ترقی کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں کشمیر کے لیے بہترین چوائس انڈیا ہے، نہ کہ پاکستان۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کے ساتھ جڑنا، ایک ترقی یافتہ ملک کے ساتھ جڑنا ہے۔ اور پاکستان کے ساتھ جڑنا، ایک ایسے ملک کے ساتھ جڑنا ہے جو ابھی تک ترقی کی طرف اپنا سفر بھی شروع نہ کر سکا۔

الرسالہ آن لائن

اب آپ ماہ نامہ الرسالہ (اُردو) کے نئے اور پرانے شمارے اور مولا نا وحید الدین خاں صاحب کی کتابیں آن لائن بھی پڑھ سکتے ہیں اور اُن کو فری ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس website کا پتہ یہ ہے:

www.alrisala.org

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page