حقیقت پسندانہ مزاج
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۲
بھی ہٹے تو وہ مطلوب نتیجے تک پہنچنے سے محروم رہ جائے گا۔ گویا کہ ایگزیکٹ سائنس ، اس کے اندر اگزی کٹ تھنکنگ کا مزاج بناتی ہے۔ اور اگزی کٹ تھنکنگ ہی کا دوسرا نام حقیقت پسندی ہے۔ اب انڈیا گیٹ کے مذکورہ واقعہ کو لیجیے۔ آدمی کے اندر فخر کا جذبہ کیوں آیا۔ صرف اس لیے کہ اس کے اندر سائنسی مزاج، بالفاظ دیگر، حقیقت پسندانہ مزاج موجود نہ تھا۔ اگر اس کے اندر صحیح مزاج موجود ہوتا تو آئس کریم کا پیکٹ اس کے تواضع میں اضافہ کرتا نہ کہ فخر اور گھمنڈ میں، جیسا کہ عملاً پیش آیا۔ آئس کریم کیا ہے۔ آئس کریم ایک عظیم تحفہ ہے۔ آئس کریم کو وجود میں لانے میں ایک طرف نیچر کا طویل کائناتی عمل شامل ہے، اور دوسری طرف انسان کی تہذیبی جدوجہد کا لمبا سفر اس کو وجود میں لانے میں سرگرم رہا ہے۔ اس طرح ناقابلِ یقین حد تک ایک پُر از واقعات تاریخ کے نتیجے میں وہ وقت آیا کہ ایک شخص کو خوب صورت کیس میں پیک کی ہوئی آئس کریم حاصل ہو سکے۔ ایک سائنسی نظریے کے مطابق، تقریباً دس بلین سال پہلے وسیع کائنات گیسوں سے بھری ہوئی تھی ۔ اس کے بعد لمبے عمل کے نتیجے میں ہائیڈروجن اور آکسیجن مخصوص تناسب میں ایک دوسرے کے ساتھ ملے۔ اس کے نتیجے میں پانی وجود میں آیا۔ اس کے بعد لمبی مدت تک زمین پر پانی برستا رہا۔ اس کے نتیجے میں زمین پر پانی کے ذخیرے اکٹھا ہو گئے ۔ اس کے بعد حیوانات وجود میں آئے۔ آخر میں انسان اس زمیں پر آباد ہوا۔
اس طرح لمبی مدت کے عمل کے نتیجے میں دودھ دینے والے جانور پیدا ہوئے ۔ پھر انسانی تہذیب کا عمل شروع ہوا۔ انسانی تہذیب ہزاروں سال تک ایک ارتقائی سفر طے کرتی رہی۔ اس نے حیوانات سے دودھ حاصل کیا۔ پھر اس دودھ کے مختلف مرکبات بنائے ۔ پھر جدید صنعت ظهور میں آئی۔ اس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ دودھ کو آئس کریم کی شکل میں ڈھالا جاسکے ۔ اور اس کو خوب صورت پیکٹ میں پیک کر کے بازار میں لایا جائے۔
عالم فطرت اور انسانی تہذیب دونوں کے اس لمبے مشترک عمل پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ آج جب ایک آدمی چند روپے دے کر بازار سے آئس کریم کا پیکٹ حاصل کرتا ہے تو اس پورے عمل (process)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues