Al-Risala · September 2007 · page 27

Who designed the designer

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۷

کے موجودہ قوانین کہاں سے آئے، وہ اپنی موجودہ محکم حالت میں کیوں قائم ہیں، وغیرہ۔ روایتی طور پر سائنس داں یہ فرض کر رہے تھے کہ یہ قوانین، کائناتی کا لازمی حصہ ہیں۔ قوانینِ طبیعی کی حقیقت کی کھوج کرنا، سائنس کا موضوع نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب یہ سوالات سائنس دانوں کو پریشان کر رہے ہیں۔ کیمبرج کے سائنس داں مارٹن ریس (Martin Rees) جو کہ رائل سوسائٹی کے صدر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ طبیعیات کے قوانین، مطلق اور آفاقی نہیں ہیں، وہ ایک بڑے کائنات نظام کے متفرق حصے ہیں۔ ہر حصے کے اپنے ضوابط ہیں۔ وہ اس نظام کو متعدد کائنات نظام (the multiverse system) کہتے ہیں۔ ان تحقیقات کے مطابق، ہماری کائنات ایک ایسی کائنات ہے جو موافق حیات قوانین (bio-friendly laws) کی حامل ہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ کائنات کو ہم اس طرح پاتے ہیں کہ وہ ہماری ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہاں انسان کا قیام ناممکن ہو جاتا۔ یہ محکم قوانین جو کائنات کو نہایت منظم طور پر کنٹرول کر رہے ہیں، وہ کہاں سے آئے۔

تمام مشکلات کا سبب، جدید مفکرین کے نزدیک ، یہ ہے کہ مذہب اور جدید سائنس، دونوں کائنات کا جو تصور دے رہے ہیں، وہ کائنات کے علاوہ ایک ایسی ایجنسی کا تقاضا کرتے ہیں جو کائنات کے باہر سے کائنات کا نظم کر رہی ہو۔ تاہم کائنات کی توجیہہ کے لیے ایک ایسے ڈیزائنر کو ماننا جو کائنات سے پہلے موجود ہو، وہ اس مسئلے کی کوئی توجیہہ نہیں۔ کیوں کہ یہ توجیہہ فوراً یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ ڈیزائنر نے اگر کائنات کو بنایا تو خود ڈیزائنر کو کس نے بنایا:

Who designed the designer

اگر زندگی کی کوئی آخری معنویت (ultimate meaning) ہے، جیسا کہ میں یقین رکھتا ہوں، تو یہ جواب خود نیچر کے اندر ملنا چاہیے، نہ کہ اُس سے باہر۔ کائنات ایک محکم کائنات ہو سکتی ہے، لیکن اگر ایسا ہے تو کائنات نے خود ہی اپنے آپ کو ایسا بنایا ہے۔

وضاحت

الہیات کے معاملے میں جدید ذہن سخت کنفیوژن کا شکار ہے۔ اس کا ایک اندازہ پروفیسر پال ڈیویز

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page