Al-Risala · September 2007 · page 28

عقلی موقف

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۸

کے مذکورہ مضمون سے ہوتا ہے۔ ملحد فلاسفہ اکثر یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر مذہبی عقیدے کے مطابق ، خدا نے کائنات کو بنایا تو خود خدا کو کس نے بنایا۔ مگر یہ سوال مکمل طور پر ایک غیر منطقی (illogical) سوال ہے۔ یہ منطق (logic) کی نفی ہے۔ مزید یہ کہ مذکورہ اعتراض ایک کھلی تضاد فکری پر قائم ہے۔ یہ لوگ خود تو کائنات کو بغیر خالق کے مان رہے ہیں ، مگر خالق کو ماننے کے لیے وہ ایک خالق خالق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالاں کہ کائنات کا وجود اگر بغیر خالق کے ممکن ہے تو خالق کا وجود بھی بغیر خالق کے ممکن ہونا چاہیے۔

عقلی موقف

خدا کے وجود کے معاملے میں اصل غور طلب بات یہ ہے کہ خالص عقلی نقطہ نظر سے ہم کیا موقف اختیار کر سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ اس کے سوا کوئی اور طریقہ اس معاملے میں سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔

یہ ایک مسلّم بات ہے کہ کائنات میں انتہائی معیاری حد تک نظم پایا جاتا ہے۔ نظم کا یہ معاملہ ہر آدمی کا ذاتی مشاہدہ ہے۔ مذکورہ مضمون نگار نے ایٹم کی ساخت کو لے کر اسی معاملے کی ایک سائنسی مثال دی ہے۔ اس لیے جہاں تک کائنات میں نظم کا سوال ہے، یہ ہر فریق کے نزدیک ، ایک مسلّم حقیقت ہے۔

عقلی موقف کے اعتبار سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ نظم کا تصور ناظم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جہاں نظم ہے، وہاں یقیناً اس کا ایک ناظم موجود ہے۔ ناظم کے بغیر نظم کا تصور عقلی اعتبار سے محال ہے۔ نظم کی موجودگی ایک مجبورانہ منطق (compulsive logic) پیدا کرتی ہے، یعنی کسی بھی عذر کے بغیر ناظم کی موجودگی کا اقرار کرنا۔ کسی کے ذہن میں ناظم کی موجودگی کی توجیہہ نہ ہونا ، اُس کو یہ منطقی جواز نہیں دیتا کہ وہ ناظم کی موجودگی کا انکار کر دے۔

ایٹم کے ڈھانچے کی مثال لے کر مضمون نگار نے جو بات کہی ہے، وہی اس دنیا کی ہر چیز کے بارے میں درست ہے۔ اس دنیا کا ہر جز، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، وہ اس قدر محکم اور متناسب ہے کہ اس

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page