ذہین کائنات
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۹
کے ڈھانچے میں کوئی بھی تغیر سارے نظام عالم کو درہم برہم کرنے کے لیے کافی ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے سیارہ زمین میں جو کشش (gravity) ہے، وہ آخری حد تک ہماری ضرورتوں کے مطابق ہے۔ اگر زمین کی کشش نصف کے بقدر زیادہ ہو جائے، یا نصف کے بقدر کم ہو جائے تو دونوں حالتوں میں سیارہ زمین پر انسانی تہذیب کا بقا ناممکن ہو جائے گا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خلا میں ہمارے دو قریبی پڑوسی ہیں سورج اور چاند۔ اگر ایسا ہو کہ سورج وہاں ہو جہاں آج چاند ہے، اور چاند وہاں ہو جہاں آج سورج ہے، تو زمین پر انسانی زندگی تو درکنار خود زمین جل کر ختم ہو جائے گی۔
ہماری زمین پر تمام چیزیں اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہیں۔ لیکن درخت کا معاملہ استثنائی طور پر یہ ہے کہ اس کی جڑیں تو زمین میں نیچے کی طرف جاتی ہیں اور اس کا تنا اوپر کی طرف جاتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ درخت میں یہ دو طرفہ خصوصیت نہ ہو تو اس کے بعد زمین کی سطح پر ہرے بھرے درختوں کا خاتمہ ہو جائے گا، وغیرہ۔
ذہین کائنات
کائنات میں ان گنت چیزیں ہیں، اور ہر چیز مرکّب (compound) کی صورت میں ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایٹم، کائنات کا ایک ایسا واحدہ ہے جو مفرد (single) ہے اور غیر مرکب حالت میں ہے۔ مگر آئن سٹائن کے زمانے میں جب ایٹم ٹوٹ گیا تو معلوم ہوا کہ ایٹم بھی مرکب ہے، وہ کوئی مفرد چیز نہیں۔
دورِ جدید میں ہر چیز کا سائنسی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ چیزیں جن اشیا سے ترکیب پا کر بنتی ہیں، ان کی ترکیب کے لیے ہمیشہ بہت سے آپشن (options) موجود ہوتے ہیں، مگر سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ نیچر ہمیشہ یہ کرتی ہے کہ بہت سے آپشن میں سے اُسی آپشن کو لیتی ہے جو کائنات کی مجموعی اسکیم کے عین مطابق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز بالکل پرفیکٹ نظر آتی ہے، اس دنیا کی ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues