واحد انتخاب
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۱
انتخاب (options) ہیں۔ ایک، یہ کہ کائنات اپنی ناظم آپ ہے۔ مگر سائنس کی تمام تحقیقات اس کی تردید کرتی ہیں۔ اس لیے کہ سائنس نے کائنات میں جس نظم کو دریافت کیا ہے، وہ مکمل طور پر ایک ذہن نظم (intelligent design) ہے۔ دوسری طرف سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ خود کائنات کے اندر سب کچھ ہے، لیکن وہی چیز اس کے اندر موجود نہیں جس کو ذہانت (intelligence) کہا جاتا ہے۔ سائنس کی دریافت کردہ کائنات، بیک وقت کامل طور پر منّظم (designed) ہے اور اسی کے ساتھ وہ کامل طور پر غیر ذہین (non-intelligent) ہے۔ ایسی حالت میں کائنات کو اپنے نظم کا خود ناظم سمجھنا، ایسا ہی ہے جیسے پتھر کے اسٹیچو کے بارے میں یہ فرض کر لیا جائے کہ اس نے اپنی با معنی ڈیزائن خود تیار کی ہے ۔ وہ ایک خود تخلیقی وجود (self-created being) ہے۔
اس کے بعد ہمارے پاس کائنات کی توجیہہ کے لیے صرف ایک آپشن باقی رہتا ہے، اور وہ یہ کہ ہم ایک خارجی ایجنسی (outside agency) کو کائنات کے نظم کا سبب قرار دیں۔ اس ایک انتخاب کے سوا، کوئی دوسرا انتخاب ہمارے لیے عملی طور پر ممکن نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے بے خدا کائنات اور با خدا کائنات کے درمیان انتخاب نہیں ہے، بلکہ با خدا کا ئنات (universe with God) اور غیر موجود کا ئنات (no universe at all) کے درمیان انتخاب ہے۔ یعنی ہم اگر خدا کا انکار کریں تو ہمیں کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ چوں کہ ہم کائنات کے وجود کا انکار نہیں کر سکتے ، اس لیے ہم مور ہیں کہ ہم خدا کے وجود کو تسلیم کریں۔
واحد انتخاب
عقلی اصولوں میں سے یہ ایک اصول ہے کہ جب ایسی صورت حال ہو کہ عملی طور پر ہمارے لیے صرف ایک ہی انتخاب ممکن ہو تو اُس وقت ایک مجبور کن صورت حال (compulsive situation) پیدا ہو جاتی ہے، یعنی ہم مجبور ہوتے ہیں کہ اُس ایک انتخاب کو لے لیں۔ اس کے خلاف کرنا، صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب وہاں ایک سے زیادہ انتخاب موجود ہوں۔ لیکن جب جب ایک کے سوا کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues