منطقی استدلال
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۲
دوسرا انتخاب سرے سے موجود ہی نہ ہو تو اُس وقت لازم ہو جاتا ہے کہ ہم اِسی واحد انتخاب کو قبول کر لیں۔ زیر بحث مسئلے میں یہ واحد انتخاب خدا کے وجود کو بطور واقعہ تسلیم کرنا ہے، کیوں کہ یہاں اقرار خدا کے سوا کوئی اور انتخاب ہمارے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں۔
منطقی استدلال
کسی بات کو عقلی طور پر سمجھنے کے لیے انسان کے پاس سب بڑی چیز منطق (logic) ہے۔ منطق کے ذریعے کسی بات کو عقلی طور پر قابل فہم بنایا جاتا ہے۔ منطق کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک ہے، انتخابی منطق (optional logic) اور دوسری ہے، مجبورانہ منطق (compulsive logic)۔ منطق کے یہ دونوں ہی طریقے یکساں طور پر قابل اعتماد ذریعے ہیں۔ دونوں میں سے جس ذریعے سے بھی بات ثابت ہو جائے، اس کو ثابت شدہ مانا جائے گا۔
انتخابی منطق
انتخابی منطق وہ ہے جس میں آدمی کے لیے کئی میں سے کسی ایک کے انتخاب کا موقع ہو۔ اس قسم کے معاملے میں ہمارے پاس ایسے ذریعے ہوتے ہیں جن کو منطبق کر کے ہم ایسا کر سکتے ہیں کہ کئی میں سے صرف ایک کا انتخاب کریں اور بقیہ کو چھوڑ دیں۔
مثلاً سورج کی روشنی کو لیجیے۔ آنکھ سے دیکھنے میں سورج کی روشنی صرف ایک رنگ کی دکھائی دیتی ہے، لیکن پرزم (prism) سے دیکھنے میں سورج کی روشنی سات رنگوں میں بٹ جاتی ہے۔ اس طرح سورج کی روشنی کے رنگ کے بارے میں ہمارے پاس دواستخاب (options) ہو گیے۔ اب ہمارے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ دونوں میں سے جس انتخاب میں منطقی وزن زیادہ ہو، ہم اس کو لیں۔ چناں چہ اس معاملے میں سات رنگوں کے نظریے کو مان لیا گیا۔ کیوں کہ وہ زیادہ قوی ذریعے سے ثابت ہو رہا تھا۔
مجبورانہ منطق
مجبورانہ منطق کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مجبورانہ منطق میں آدمی کے پاس صرف ایک کا میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں:
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues