Al-Risala · January 2007 · page 41

نئی دہلی، ۲۹ جولائی ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۴۱

ایک عرب شیخ نے میری کتاب الاسلام یتحدی کا سکینڈ ٹائٹل یہ تجویز کیا تھا_ مدخل علمی إلى الإيمان_ حضرت مولانا علی میاں کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ انھوں نے جس خطرے کی نشاندہی کی تھی، میں نے اس کو گہرائی کے ساتھ سمجھا، اور وقت کے فکری مستوی کے مطابق ،طاقت ور علمی انداز میں اس کا سد باب کیا۔ ایسی حالت میں میری کتابوں کے متعلق، حضرت مولانا کا مذکورہ بیان میرے لیے سخت ناقابل فہم ہے۔ چوں کہ آپ نے حضرت مولانا کے اس خط کو اپنی کتاب میں شائع فرمایا ہے۔ اس لیے یقیناً آپ اس کی نوعیت کو پوری طرح سمجھتے ہوں گے_ میری گذارش ہے کہ آپ اپنے علم کے مطابق، متعین صورت میں مذکورہ دونوں باتوں کی وضاحت فرمائیں۔

نئی دہلی، ۲۵ اگست ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین میرے اس خط کے بعد مولانا موصوف کا درج ذیل خط مجھے ملا:

محترم المقام، عالم ربانی حقانی ،صاحب قلم مشہور شخصیت، حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب مدظلہ العالی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۲۵ اگست ۲۰۰۶ کا عنایت نامہ موصول ہوا، جزاك الله۔ میں پچھلے تین سالوں سے گلوکوما آپریشن ناکام ہونے کے سبب دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوں_ صاحب فراش بھی ہوں ۔ سارے کام کاج بند ہیں۔ لیکن خطوط بڑی تعداد میں آتے رہتے ہیں_ جواب دینا مشکل پڑتا ہے۔ آپ کا خط اہم تھا، آپ کو دکھ پہنچا، اس لیے جواب کے لیے حاضر خدمت ہوں۔

میرے بزرگ، آپ نے جس خط کا حوالہ دیا ہے، وہ ۲ اگست ۱۹۷۷ کا ہے۔ اور حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کو انتقال فرمائے ۷۸ برس ہو گئے ہیں۔ اور اس مذکورہ خط کو ۲۰ سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ اس خط کے شائع ہونے کا مجھے افسوس ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو دکھ پہنچا_ اللہ مجھے معاف فرمائے_ میرے بزرگ، مجھ سے زیادہ دین کا فہم علم اور گہرائی اللہ نے آپ کو دی ہے۔ یہ ۲۰ سال پہلے کی بات ہے۔ جمیل الدین صاحب سے میری ملاقات ہوئے ۱۰، ۱۵ سال ہو گئے ۔ ند وہ ایجنسی ہے بھی یا نہیں، مجھے لگتا ہے شاید ختم ہوگئی ہو۔ دراصل ندوہ ایجنسی مولانا کا خود کا ادارہ تھا اور ساتھ ہی جمیل الدین صاحب کے گھر پر ہی ادارہ میں ایک مدرسہ بھی چلتا تھا۔ مولانا اپنی کتابیں اس میں رکھتے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page