Al-Risala · September 2007 · page 36

زمین ایک استثنا

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۶

مگر اس قسم کی زندگی کی موجودگی کوئی سادہ بات نہیں ۔ اس کے لیے دوسرے ان گنت اسباب درکار ہیں ۔ ان اسباب کے بغیر زندگی کا وجود اور بقا ممکن نہیں۔ زمین ، اس اعتبار سے وسیع کائنات میں ایک انوکھا استثنا ہے۔ یہاں استثنائی طور پر انسان موجود ہے اور اسی کے ساتھ یہاں اس کے وجود اور بقا کے لیے انتہائی متناسب انداز میں تمام سامان حیات موجود ہے۔

وسیع کائنات میں یہ بامعنی استثنا بلا شبہ ارادی عمل اور منصوبہ بند تخلیق کا ثبوت ہے، اور جہاں ارادی عمل اور منصوبہ بند تخلیق کا ثبوت موجود ہو، وہاں ایک صاحبِ ارادہ اور ایک صاحبِ تخلیق ہستی کا وجود اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے۔

زمین ایک استثنا

ایک شخص اگر کائنات کا سفر کرے ، وہ پوری کائنات کا مشاہدہ کرے تو وہ پائے گا کہ وسیع کائنات پوری طرح ایک غیر ذی روح (lifeless) کائنات ہے۔ اُس میں اتھاہ خلا ہے، دہشت ناک تاریکی ہے، اْس کے اندر پتھر کی چٹانیں ہیں، آگ کے بہت بڑے بڑے گولے ہیں اور یہ سب چیزیں دیوانہ وار مسلسل حرکت میں ہیں۔

اس پُر ہیبت منظر سے گزر کر جب وہ سیارۂ زمین پر پہنچتا ہے تو یہاں اس کو ایک حیران کُن استثنا نظر آتا ہے۔ یہاں استثنائی طور پر پانی ہے، سبزہ ہے، حیوانات ہیں، زندگی ہے، عقل و فہم کے پیکر انسان ہیں، پھر یہاں حیرت ناک طور پر وہ موافق حیات چیز موجود ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک مکمل تہذیب (civilization) موجود ہے، جو وسیع کائنات میں کہیں بھی سرے سے موجود نہیں، یعنی بظاہر ایک انتہائی بے معنی کائنات میں ایک انتہائی بامعنی دنیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ وسیع کائنات میں سیارۂ زمین ایک انتہائی نادر استثنا ہے۔ یہ استثنا کوئی سادہ بات نہیں، وہ ایک عظیم حقیقت کا مشاہداتی ثبوت ہے، اور وہ ہے قادرِ مطلق خدا کا ثبوت۔ استثنا مداخلت کو ثابت کرتا ہے اور مداخلت بلا شبہ مداخلت کار کا ثبوت ہے، اور جب مداخلت کار کا وجود ثابت ہو جائے تو اس کے بعد خدا کا وجود اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page