Al-Risala · September 2007 · page 35

Thinking exists, therefore God exists.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۵

خدا کا غیر مرئی (invisible) ہونا، اِس بات کے لیے کافی نہیں کہ خدا کے وجود کا انکار کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر مرئی ہونے کی بنا پر خدا کا انکار کرنا، ماڈرن سائنس کے زمانے میں ایک خلافِ زمانہ استدلال (anachronistic argument) ہے۔ اس لیے کہ آئن سٹائن (وفات: 1955) کے زمانے میں جب ایٹم ٹوٹ گیا اور علم کا دریا عالمِ صغیر (microworld) تک پہنچ گیا تو اس کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں ہر چیز غیر مرئی ہے۔ پہلے جو چیزیں مرئی (visible) سمجھی جاتی تھیں، اب وہ سب کی سب غیر مرئی ہوگئیں۔ ایسی حالت میں عدمِ رؤیت کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کرنا، ایک غیر علمی موقف بن چکا ہے۔ اس موضوع کی تفصیل کے لیے حسبِ ذیل دو کتابوں کا مطالعہ کافی ہے: Unseen World, by Sir Arthur Eddington Human Knowledge, by A. W. Bertrand Russel خلائی مشاہدہ موجودہ زمانے میں جو نئی چیزیں وجود میں آئی ہیں، اُن میں سے ایک چیز وہ ہے جس کو خلائی سفر کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ راکٹ کے ذریعے خلا میں گیے اور وہاں سے مخصوص دور بینوں کے ذریعے انھوں نے زمین کا مطالعہ کیا۔ ان لوگوں نے اپنے خلائی مشاہدے کی بنیاد پر بہت سی نئی باتیں بتائی ہیں۔

اُن میں سے ایک بات یہ ہے کہ ایک خلا باز نے کہا کہ خلائی سفر کے دوران انھوں نے یہ تجربہ کیا کہ وسیع خلا میں کہیں بھی زمین جیسا کوئی کُرہ موجود نہیں۔ زمین پر لائف ہے اور اُسی کے ساتھ اعلیٰ پیمانے پر لائف سپورٹ سسٹم بھی۔ یہ دونوں چیزیں زمین پر انتہائی موزوں اور متناسب انداز میں پائی جاتی ہیں۔

ایک خلا باز نے زمین کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا۔ صحیح قسم کا سامان صحیح جگہ پر: Right type of material at the right place. زمین کی یہ انوکھی صفت ہے کہ یہاں زندگی پائی جاتی ہے، یہاں چلتا پھرتا انسان موجود ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page