Al-Risala · September 2007 · page 42

آڈیئل ازم کی ناکامی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۲

اس لحاظ سے انسانی زندگی کا بھی ایک جوڑاا ہونا چاہیے، یعنی موت سے پہلے کی نامکمل زندگی کے ساتھ موت کے بعد کی کامل زندگی۔ باخدا کائنات کے نظریے میں اُس کا یہ تکمیلی جوڑا موجود ہے، لیکن بے خدا کائنات کے نظریے میں اُس کا یہ تکمیلی جوڑ موجود نہیں۔

آڈیئل ازم کی ناکامی

تمام فلاسفہ اور مفکرین موجودہ دنیا کو ابدی (eternal) سمجھتے رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اسی موجودہ عالم میں ہم کبھی نہ کبھی اپنی مطلوب دنیا بنا لیں گے۔ آئیڈیل سوسائٹی، آئیڈیل ریاست، آئیڈیل نظام کے تصورات اسی فکر کے تحت پیدا ہوئے۔ ایسے تمام مفکرین ان تصورات سے اپنی آخری عمر تک مسحور رہے۔

لوگوں کے نزدیک تہذیب (civilization) اسی انسانی خواب کی تعبیر تھی۔ موجودہ صنعتی ترقیوں کے بعد لوگوں نے یہ سمجھا کہ تہذیبی ارتقا آخر کار اُنھیں اس منزل تک پہنچانے والا ہے، جب کہ اسی موجودہ دنیا میں وہ اپنی جنت تعمیر کر لیں۔ لیکن یہ تصور مکمل طور پر باطل ثابت ہوا۔ دنیا کا خاتمہ جدید سائنس کے بانی سر آئزاک نیوٹن (وفات: 1727) نے 1704 میں قوانین طبیعی کا مطالعہ کر کے بتایا تھا کہ موجودہ دنیا 2060 میں ختم ہو جائے گی۔ (ٹائمس آف انڈیا، 18 جون 2007)۔ اب دنیا بھر کے تمام سائنس داں خالص مشاہدات کی بنیاد پر یہ بتا رہے ہیں کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں دنیا کا خاتمہ یقینی بن چکا ہے۔ تہذیب کا مزید ارتقا اب سرے سے یہاں ممکن ہی نہیں۔ الون ٹا فلر (Alvin Toffler) کی کتاب 'فیوچر شاک' پہلی بار 1970 میں چھپی۔ الون ٹا فلر نے بتایا تھا کہ دنیا انڈسٹریل ایج سے نکل کر اب سپرانڈسٹریل ایج میں داخل ہو رہی ہے۔ تہذیب کا اگلا دور مکمل آٹومیشن (complete automation) کا دور ہوگا۔ پش بٹن کلچر (push button culture) اس حد تک ترقی کرے گا کہ ہر کام آٹومیٹک طور پر ہونے لگے گا۔ لیکن گلوبل وارمنگ کا مسئلہ تکمیل تاریخ کے بجائے خاتمۂ تاریخ (end of history) کا پیغام لے کر سامنے آگیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page