Al-Risala · October 2007 · page 3

پیغمبر انقلاب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳

پیغمبر آخرالزماں کی شکل میں تاریخ میں ایک ایسا بلند ترین مینار کھڑا کر دیا ہے کہ آدمی جس طرف بھی نظر اٹھائے، وہ آپ کو دیکھ لے ۔ جب وہ اپنے رہ نما کی تلاش میں نکلے تو اُس کی نظر سب سے پہلے آپ پر پڑے ۔ جب وہ حق کا راستہ جاننا چاہے تو آپ کا روشن اور بلند و بالا وجود اُس کو سب سے پہلے اپنی طرف متوجہ کر لے۔ آپ ساری انسانیت کے لیے ہادی اعظم اور رہبر کامل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اسی لیے خدا نے آپ کو نبیوں کے خاتم (الأحزاب : 40) کی حیثیت سے مبعوث فرمایا۔ دوسرے انبیا صرف اللہ کے رسول تھے ، اور آپ اللہ کے رسول ہونے کے ساتھ خاتم النبیین بھی۔ میری کتاب ’پیغمبر انقلاب‘ پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اس وقت میں نے اس کتاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو الفاظ لکھے تھے، وہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیرمسلموں کے لیے بھی نشان راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

قرآن کے مطابق ، اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو محمودیت کے مقام پر کھڑا کیا ہے (الإسراء : 79)۔ چناں چہ نہ صرف اہل اسلام بلکہ عام مصنفین اور مورخین نے آپ کی عظمت کو کھلے طور پر تسلیم کیا ہے۔

بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی میں مسلم قوموں اور مسیحی قوموں کے درمیان لڑائیاں پیش آئیں، جن کو صلیبی جنگ (crusades) کہا جاتا ہے ۔ ان جنگوں میں مسیحی قوموں کو شکست ہوئی۔ اُس کے بعد مسیحی مصنفین نے اسلام کے خلاف ایک قلمی جنگ چھیڑ دی۔ کثرت سے ایسی کتابیں لکھی گئیں جن میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی تصویر کو بگاڑ کر پیش کیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس سلسلے کو توڑنے والا پہلا قابل ذکر شخص اسکاٹ لینڈ کا ایک مصنف ٹامس کارلائل (وفات: 1881) ہے۔ اُس نے جرأت مندانہ طور پر اس رجحان کو بدلا۔ اُس کی مشہور کتاب ہیرو ورشپ (On Heroes, Hero Worship) پہلی بار 1841 میں چھپی۔ اس انگریزی کتاب میں اُس نے پیغمبر اسلام کی مثبت تصویر پیش کی۔ اُس نے پیغمبر اسلام کو دوسرے تمام پیغمبروں کے مقابلے میں ’’ہیرو‘‘ کا درجہ دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page