پیغمبر انقلاب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴
اس کے بعد کثرت سے مختلف زبانوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کتابیں شائع ہوئیں ۔ ان کتابوں میں تاریخ میں آپ کے انقلابی رول کا کھلے طور پر اعتراف کیا گیا۔ مثلاً انڈیا کے ایک اسکالر ایم این رائے (وفات : 1954) کی کتاب (Historical Role of Islam) 1939 میں پہلی بار دہلی سے چھپی ۔ اس میں انھوں نے لکھا کہ پیغمبر اسلام ، تمام پیغمبروں میں سب سے بڑے پیغمبر تھے۔ انھوں نے سب سے بڑا تاریخی معجزہ دکھایا:
Every prophet esptablishes his pretentions by the performance of miracles. On that token, Muhammad must be recognised as by far the greatest of all prophets, before or after him. The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (p. 4)
پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن میں یہ پیشین گوئی آئی ہے کہ آپ کو مقام محمودیت کا درجہ عطا کیا جائے گا (الإسراء : 79)۔ مقامِ محمود کا ایک پہلو وہ ہے جو آخرت میں ظاہر ہوگا۔ دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق موجودہ دنیا سے ہے۔ موجودہ دنیا کی نسبت سے مقامِ محمود یہ ہے کہ آپ کو تاریخی اعتبار سے ایک مسلم نبوت (established prophethood) کا درجہ حاصل ہوگا۔ آپ سے پہلے جو انبیا آئے ، وہ مدوّن تاریخ میں ریکارڈ نہ ہوسکے ۔ آپ کے سوا ہر ایک کی حیثیت ، اعتقادی نبوت کی ہے نہ کہ تاریخی نبوت کی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ کو خدا نے آخری پیغمبر بنایا تھا۔ آپ کے بعد کوئی دوسرا پیغمبر آنے والا نہ تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب اور آپ کی پیغمبرانہ زندگی کامل طور پر محفوظ ہوجائے ، وہ تسلیم شدہ تاریخی ریکارڈ کی حیثیت حاصل کرلے۔ کیوں کہ قانونِ الہی کے مطابق ، جب پیغمبر مستند تاریخی ریکارڈ کا درجہ حاصل کرلے تو اس کے بعد اُس کی لائی ہوئی کتاب اور اُس کی تعلیمات کا یہی ریکارڈ پیغمبر کا قائم مقام بن جاتا ہے ، اس کے بعد کسی نئے پیغمبر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues