نئی دہلی، ۲۹ جولائی ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۴۳
قلم سے بے شمار لوگوں کو دینِ حق کی واقفیت ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں مزید اضافہ فرمائے۔ آپ کی تشریف آوری ناگپور کبھی کبھار ہوتی رہتی ہے۔ بھائی عبد السلام اکبانی جو میرے بھانجے ہیں، آپ کے بہت مداح ہیں، کبھی آنا ہوا تو اس نابینا کو ملاقات کا شرف عنایت فرمائیں۔ جزاك الله۔
آپ کے ترجمہ و تشریح قرآن (تذکیر القرآن) کا ایک نسخہ وی پی کے ذریعہ ارسال فرمائیں، عنایت ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ اس خط کا آپ اچھا اثر لیں گے اور میرے لئے دعا کریں گے۔ ہم سب اللہ کی رضا کے لیے کام کرتے ہیں اس میں اجر کا زیادہ حصہ آپ ہی کا ہے۔ آپ کے لیے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کی محنت کو شرف قبولیت بخشے۔ آمین۔
والسّلام ۱۸ ستمبر ۲۰۰۶ء طالبِ دعا عبدالكريم پاريكھ مولا نا موصوف کے خط کو پڑھ کر میں نے ان کی خدمت میں اپنا درج ذیل خط روانہ کیا: محترمی و مکرمی مولانا عبد الکریم پاریکھ صاحب !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا عنایت نامہ مورخہ ۱۸ ستمبر ۲۰۰۶ ملا۔ حالات معلوم ہوئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر طرح صحت اور عافیت میں رکھے ۔ اور آپ کو شفا عطا فرمائے۔ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے دین کا بہت کام لیا ہے۔ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ آئندہ بھی وہ آپ کی دینی خدمات کو جاری رکھے گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا یہ مکتوب بھی آپ کے مراتبِ عالیہ میں اضافے کا ذریعہ ہوگا۔ آپ نے جس طرح کھلے دل کے ساتھ معاملے کی وضاحت فرمائی ہے، وہ آپ کی ایمانی عظمت اور اخلاقی جرات کا ایک مزید ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار آدمی کے پاس عیادت کے لیے گیے ۔ وہ تکلیف کی حالت میں تھا۔ اس کو دیکھ کر آپ نے فرمایا: لا باس طہور إن شاء اللہ ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحت جس طرح ایک نعمت ہے اسی طرح بیماری بھی ایک نعمت ہے ۔ مومن جب صحت مند ہو تو صحت کی حالت اس کے لیے شکر کے جذبات پیدا کرنے میں معاون بنتی ہے، اور مومن کو جب بیماری کا تجربہ ہوتا ہے تو بیماری اس کے عجز کے جذبات میں اضافے کا سبب بن جاتی ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، عجز اللہ سے قربت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : أنا عند المنكسرة قلوبهم۔ میری دعا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues