نئی دہلی، ۲۵ ستمبر ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۴۴
کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر قسم کی رحمت اور نصرت اور عافیت عطا فرمائے۔
نئی دہلی، ۲۵ ستمبر ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
میرے اس خط کے بعد مولانا موصوف کا ایک اور خط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے: محترم المقام، صاحب قلم، عالم ربانی، حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب مدظلہ العالی ! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کے خط کے جواب میں میرا عریضہ الحمد للہ آپ کو مل گیا۔ آپ نے اس کے جواب میں جو تحریر فرمایا اس سے مجھے بڑی تسکین، خوشی، اور راحت محسوس ہوئی۔ الحمد للہ دل پوری طرح مطمئن ہوا۔ اس عاجز کے خط کا آپ نے مومنانہ اثر لیا۔ آپ مطمئن ہوئے۔ اس پر آپ کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اور اپنے حق میں بھی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہم کو راہ ہدایت پر قائم رکھے ۔ اور ہم سبھوں کو ایک دوسرے کا معاون بنائے۔ آپ نے جن احادیث مبارکہ کا تذکرہ فرمایا اسے پڑھوا کر سنا، بڑی تسلی ہوئی۔ بعض احادیث کا استحضار بھی ہوا۔ آپ کے یہ جملے "مومن جب صحت مند ہو تو صحت کی حالت اس کے لیے شکر کے جذبات پیدا کرنے میں معاون بنتی ہے، اور جب مومن کو بیماری کا تجربہ ہوتا ہے تو بیماری اس کے لیے عجز کے جذبات میں اضافے کا سبب بن جاتی ہے"۔ الحمد للہ ان جملوں سے مزید تقویت پہنچی۔ آپ کا یہ تحریر فرمانا کہ " مجھے یقین ہے کہ آپ کا یہ مکتوب بھی آپ کے مراتب عالیہ میں اضافے کا ذریعہ ہوگا۔ آپ نے جس طرح کھلے دل کے ساتھ معاملے کی وضاحت فرمائی، وہ آپ کی ایمانی عظمت کا ایک مزید ثبوت ہے"۔ یہ جملے آپ نے میرے لیے استعمال کئے، اس کا مستحق تو نہیں ہوں لیکن اس پر الحمد للہ آمین آمین کہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے میرے تعلق سے آپ کا ذہن حسن ظن کی طرف ڈالا۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کا مستحق بنادے۔ آپ کے جملے سن کر میرا دل بھر آیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر کثیر عطا فرمائے۔ جو دعائیں آپ نے میرے حق میں فرمائی ہیں، میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہی دعائیں لاکھوں گنا آپ کے حق میں بھی قبول فرمائے۔ آمین۔
آں جناب کی گراں قدر تفسیر تذکیر القرآن " الحمد للہ موصول ہوئی ۔ تھوڑا تھوڑا پڑھوا کر روزانہ اس کو سنتا ہوں ۔ اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے ۔ اور آپ کی محنتوں کو قبول فرمائے ۔ والسّلام ۱۰/ اکتوبر ۲۰۰۶ طالب دعا عبدالكريم پاريكھ، ناگ پور
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues